بیک وقت پنشن اور تنخواہ لینے والے سرکاری ملازمین کو بڑا جھٹکا
وفاقی حکومت کا نیا فیصلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے ایک نیا ضابطہ جاری کیا ہے، جس کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ سرکاری ملازمت حاصل کرنے پر پینشن یا تنخواہ میں سے صرف ایک چیز ملے گی۔ وزارت خزانہ نے اس سلسلے میں ایک آفس میمورنڈم جاری کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن لیڈر کی تقرری، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے چیف وہپ عامر ڈوگر کو چوتھا خط ارسال کردیا
ریٹائرڈ ملازمین کے لیے نئے قواعد
نجی ٹی وی ڈان نیوز کے مطابق، وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ آفس میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو، 60 سال کی عمر کے بعد اگر دوبارہ ملازمت پر رکھا جاتا ہے تو انہیں سابقہ ملازمت کی پینشن یا موجودہ ملازمت کی تنخواہ میں سے کسی ایک کے حقدار ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بہاولپور پہنچ گئیں، بھلہ جھلان میں حفاظتی بند کا دورہ، فلڈ ریلیف ٹینٹ سٹی میں سیلاب متاثرین سے ملاقات
پے اینڈ پنشن کمیشن کی سفارشات
وزارت خزانہ نے پے اینڈ پنشن کمیشن 2020 کی سفارشات کی روشنی میں یہ احکامات جاری کیے ہیں، جن کے تحت ریگولر یا کنٹریکٹ کی صورت میں ری ایمپلائمنٹ یا تقرر کی صورت میں صرف تنخواہ یا پنشن میں سے ایک ہی چیز ملے گی۔
پنشنر کے لیے آپشن
وزارت خزانہ کے مطابق، پنشنر کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ پینشن یا تنخواہ میں سے کوئی ایک چیز منتخب کریں۔








