قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے بھارت کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کر دیا
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے پہلگام میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت پنجاب میں زرعی ترقی کیلئے اعلیٰ سطح کا اجلاس، چین کے ساتھ باہمی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق
چیئرمین کی صدارت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس چیئرمین فتح اللہ خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کے آغاز پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر کی والدہ اور بھابھی کے انتقال پر فاتحہ خوانی اور دعا کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: مانگا منڈی میں کم عمر مسیحی بچی سے زیادتی، مجرموں کو سخت سزا دلوائیں گے : چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی
بھارتی الزامات کا ردعمل
کمیٹی نے بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور اشتعال انگیز قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ آتشزدگی میں کوتاہی سامنے آئی تو سخت کارروائی ہوگی: شرجیل میمن
پاکستان کی ذمہ داری
کمیٹی نے اپنے اعلامیے میں زور دیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ہمیشہ خطے میں امن کے قیام کیلئے سنجیدہ کوششیں کرتا رہا ہے اور دہشت گردی کا خود شکار رہا ہے۔ تاہم اگر بھارت کی جانب سے کوئی بلاجواز اقدام کیا گیا تو پاکستان اس کا مناسب اور مؤثر جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بابراعظم پر جنسی ہراسانی کا الزام، اندراج مقدمہ کے لیے رجوع کرنے والی خاتون لاہور ہائی کورٹ طلب
خطے کی کشیدگی
اجلاس میں کمیٹی نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی، اٹاری بارڈر کی بندش، سفیروں کی واپسی جیسے اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات خطے کے دو ایٹمی ریاستوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں آسٹریلین خواتین کرکٹرز کے ساتھ موٹر سائیکل سوار کی نازیبا حرکت، ملزم گرفتار
پاکستان نیوی (ترمیمی) بل 2024ء
اجلاس کے دوران ’’پاکستان نیوی (ترمیمی) بل 2024ء‘‘ کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ وزارت دفاع نے کمیٹی کو بل کی اہم شقوں سے آگاہ کیا، جن میں فلاحی سرگرمیوں، الیکٹرانک جرائم اور طریقہ کار میں اصلاحات شامل ہیں۔
وزارت کا کہنا تھا کہ یہ ترامیم پاک فوج اور فضائیہ کے حالیہ ترمیمی ایکٹس سے مطابقت کیلئے کی جا رہی ہیں تاکہ تینوں مسلح افواج کے قوانین میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔ کمیٹی نے بل کو متفقہ طور پر قومی اسمبلی سے منظور کرانے کی سفارش کی۔
یہ بھی پڑھیں: ایک اور چینی ڈبل کیبنٹ پاکستان میں لانچ کرنے کی تیاری، اس سے زیادہ لگژری ڈالا آپ نے نہیں دیکھا ہوگا۔
معدنی وسائل کی آمدنی
مزید برآں اجلاس میں سرویئر جنرل آف پاکستان اور چاروں صوبوں و گلگت بلتستان کے محکمہ معدنیات کے سیکرٹریز نے معدنی وسائل کی سروے اور میپنگ میں نجی شعبے کی شمولیت کے حوالے سے بریفنگ دی۔
کمیٹی نے زور دیا کہ نجی اداروں کی بجائے سرویئر جنرل کے محکمے کی خدمات کو ترجیح دی جائے تاکہ حساس معلومات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: نیشنل بینک میں متوفی ملازمین کے بچوں کی ملازمت سے متعلق ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار
فنڈز کی تقسیم پر گفتگو
وفاقی وزارت دفاع کے زیر انتظام ایف جی ای آئی تعلیمی اداروں اور وزارت تعلیم کے تحت ایف ڈی ای اداروں کے درمیان فنڈز کی تقسیم میں فرق پر بھی گفتگو ہوئی۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں وزارت خزانہ اور منصوبہ بندی کے سیکرٹریز کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ فنڈز کی غیر مساوی تقسیم پر وضاحت لی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف نے ریسکیو 1122 منصوبے کو سیاست کی نذر نہیں ہونے دیا، وزیر صحت
اجلاس کے شرکاء
اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی عقیل ملک، ابرار احمد، صباء صادق، اسفندیار بھنڈارہ، صلاح الدین جونیجو، سنجے پروانی، گل اصغر خان، پلین بلوچ، محمد اسلم گھمن، غلام محمد اور محترمہ زیب جعفر (پارلیمانی سیکرٹری برائے دفاع) نے شرکت کی۔
معاونت یافتہ افراد
اس کے علاوہ اجلاس میں سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد علی HI(M)، ایڈیشنل سیکرٹری (آرمی) میجر جنرل عامر اشفاق کیانی، وزارت قانون و انصاف، دفاع اور صوبائی حکومتوں کے دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے.








