جن محکموں کا کام شہریوں کی حفاظت ہے وہی ہراساں کرتے ہیں: سندھ ہائیکورٹ

سندھ ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس ظفر راجپوت نے غیر ملکی شہری کو رہائش فراہم کرنے پر ہوٹل منیجر کو دھمکیوں کے کیس میں پولیس انسپکٹر کو طلب کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کو دفاعی میدان میں ایک اور بڑا دھچکا، برازیل نے آکاش میزائل سسٹم کی خریداری روک دی

مذکورہ کیس کی تفصیلات

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق غیر ملکی باشندوں کو رہائش فراہم کرنے پر پولیس کی ہوٹل منیجر کو مبینہ دھمکیاں دینے کے کیس کی سماعت سندھ ہائیکورٹ میں ہوئی۔ وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ہوٹل مالک کو کہا گیا اگر چینی باشندوں کو رہائش فراہم کی تو کارروائی کی جائے گی، جبکہ پولیس کا مؤقف تھا کہ ہوٹل منیجر کو ہراساں نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایس پی عدیل اکبر کی نماز جنازہ پولیس لائنز میں ادا

جج کے ریمارکس

جسٹس ظفر راجپوت نے ریمارکس دیے کہ پولیس کے کرتوت ہی ایسے ہیں کہ ان پر یقین کرنا مشکل ہے، ایس ایچ او کہاں ہے، اس نے اس الزام کے بارے میں کیا کہا ہے؟

یہ بھی پڑھیں: اے این ایف کا منشیات اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن، 9ملزم گرفتار ، 1کروڑ 60لاکھ روپے سے زائد مالیت کی منشیات برآمد

وکیل کی دلیلیں

وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا ایس ایچ او کا بیان ریکارڈ پر ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ہوٹل منیجر کو ملاقات کے لیے بلایا تھا، جس پر عدالت نے کہا کہ ریکارڈ پر سب انسپکٹر عبد القیوم کا بیان ہے، کسی اور کے دستخط نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے سموگ پابندیوں میں مزید نرمی کردی

عدالت کا فیصلہ

وکیل کا کہنا تھا کہ یہ بیان ایس ایچ او کی جانب سے عبد القیوم نے لکھا ہے، جس پر عدالت نے کہا کہ ایس ایچ او کب سے اتنا بڑا افسر ہو گیا کہ اس کی جانب سے کوئی اور بیان داخل کرے، بیان کو ایس ایچ او کے بیان کی حیثیت سے پیش کرنے والوں نے غلط بیانی کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ کا مشرقی ایشیا کے سولر پینلز پر بھارتی ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کر دیا

پولیس اہلکاروں کی معذرت

کمرہ عدالت میں موجود پولیس اہلکاروں اور سرکاری وکیل نے معذرت طلب کرلی، عدالت نے کہا کہ یہاں بیٹھ کر معلوم ہو جاتا ہے کہ کیسے ہوٹلوں میں کمرے بک کروائے جاتے ہیں اور کھانے منگوائے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نامزد اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق پر حملے کی سازش کا انکشاف

پولیس کی کارروائی پر تنقید

جسٹس ظفر راجپوت کا کہنا تھا کہ پولیس یا انٹیلی جنس اہلکار ہوٹل جا کر کسی کا بھی پاسپورٹ یا ریکارڈ چیک کر سکتے ہیں، سفید پوش منیجرز کو تھانے طلب کرنا اور لاک اپ کی دھمکیاں دینا کون سا قانون ہے؟ محکموں کا کام شہریوں کی حفاظت ہے، یہی ہراساں کرتے ہیں، کسی کا کاروبار تباہ ہو جائے، کسی کی عزت برباد ہو جائے انہیں خیال ہی نہیں ہے۔

پولیس کے خلاف درخواست

یاد رہے کہ صدر میں واقع ہوٹل انتظامیہ کی جانب سے پولیس کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی۔ سندھ ہائیکورٹ نے انسپکٹر آغا معشوق علی کو حلف نامے کے ساتھ 14 مئی کو طلب کر لیا۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...