جن محکموں کا کام شہریوں کی حفاظت ہے وہی ہراساں کرتے ہیں: سندھ ہائیکورٹ
سندھ ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس ظفر راجپوت نے غیر ملکی شہری کو رہائش فراہم کرنے پر ہوٹل منیجر کو دھمکیوں کے کیس میں پولیس انسپکٹر کو طلب کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہری پوری میں افغان خاتون کے ساتھ 5 افغان پناہ گزین نوجوانوں کی اجتماعی زیادتی
مذکورہ کیس کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق غیر ملکی باشندوں کو رہائش فراہم کرنے پر پولیس کی ہوٹل منیجر کو مبینہ دھمکیاں دینے کے کیس کی سماعت سندھ ہائیکورٹ میں ہوئی۔ وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ہوٹل مالک کو کہا گیا اگر چینی باشندوں کو رہائش فراہم کی تو کارروائی کی جائے گی، جبکہ پولیس کا مؤقف تھا کہ ہوٹل منیجر کو ہراساں نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: میر علی میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن ، دو خوارج ہلاک
جج کے ریمارکس
جسٹس ظفر راجپوت نے ریمارکس دیے کہ پولیس کے کرتوت ہی ایسے ہیں کہ ان پر یقین کرنا مشکل ہے، ایس ایچ او کہاں ہے، اس نے اس الزام کے بارے میں کیا کہا ہے؟
یہ بھی پڑھیں: معمولی تلخ کلامی پر دوست نے فائرنگ کرکے 22 سالہ دوست کو قتل کردیا
وکیل کی دلیلیں
وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا ایس ایچ او کا بیان ریکارڈ پر ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ہوٹل منیجر کو ملاقات کے لیے بلایا تھا، جس پر عدالت نے کہا کہ ریکارڈ پر سب انسپکٹر عبد القیوم کا بیان ہے، کسی اور کے دستخط نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نگران دور میں تعینات ملازمین کی برطرفی کے کیس میں خیبرپختونخوا حکومت کو نوٹس جاری
عدالت کا فیصلہ
وکیل کا کہنا تھا کہ یہ بیان ایس ایچ او کی جانب سے عبد القیوم نے لکھا ہے، جس پر عدالت نے کہا کہ ایس ایچ او کب سے اتنا بڑا افسر ہو گیا کہ اس کی جانب سے کوئی اور بیان داخل کرے، بیان کو ایس ایچ او کے بیان کی حیثیت سے پیش کرنے والوں نے غلط بیانی کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن بنیان مرصوص کی شاندار کامیابی کے بعد آرمی چیف کا پہلا بیان سامنے آگیا
پولیس اہلکاروں کی معذرت
کمرہ عدالت میں موجود پولیس اہلکاروں اور سرکاری وکیل نے معذرت طلب کرلی، عدالت نے کہا کہ یہاں بیٹھ کر معلوم ہو جاتا ہے کہ کیسے ہوٹلوں میں کمرے بک کروائے جاتے ہیں اور کھانے منگوائے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری کا وقت آنے پر حساب لیا جائے گا،علی امین گنڈاپور
پولیس کی کارروائی پر تنقید
جسٹس ظفر راجپوت کا کہنا تھا کہ پولیس یا انٹیلی جنس اہلکار ہوٹل جا کر کسی کا بھی پاسپورٹ یا ریکارڈ چیک کر سکتے ہیں، سفید پوش منیجرز کو تھانے طلب کرنا اور لاک اپ کی دھمکیاں دینا کون سا قانون ہے؟ محکموں کا کام شہریوں کی حفاظت ہے، یہی ہراساں کرتے ہیں، کسی کا کاروبار تباہ ہو جائے، کسی کی عزت برباد ہو جائے انہیں خیال ہی نہیں ہے۔
پولیس کے خلاف درخواست
یاد رہے کہ صدر میں واقع ہوٹل انتظامیہ کی جانب سے پولیس کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی۔ سندھ ہائیکورٹ نے انسپکٹر آغا معشوق علی کو حلف نامے کے ساتھ 14 مئی کو طلب کر لیا۔








