پہلگام واقعہ، وزیراعظم پاکستان نے بھارت کو غیرجانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کردی
وزیراعظم کی بھارت کو پیشکش
کاکول (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کو پہلگام واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات میں شامل ہونے کی پیشکش کردی۔
یہ بھی پڑھیں: جدید جنگ کے لیے چین کا ایک اور خفیہ ہتھیار سامنے آگیا
پاکستان کی مسلح افواج کا عزم
پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی پُروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہماری مسلح افواج تنظیم، اتحاد اور قومی مفاد کی تکمیل کا نشان ہیں اور یہ اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی وجہ سے ایک ممتاز حیثیت رکھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور پر دو ٹھیکیداروں کا راج، پی ٹی آئی رہنما کی آڈیو لیک، بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز نہ ملنے کا دعوی
پاکستان کی عالمی ذمہ داریاں
انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی امن کے قیام کے لیے اپنی ذمے داریوں سے مکمل آگاہ ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے رہیں گے۔ جیونیوز کے مطابق، پہلگام کے فالس فلیگ آپریشن اور مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ "کشمیر پاکستان کی شہ رگ اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے، کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دینا ہوگا۔"
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی والے اس بار اٹھائے گئے تو 2،3 ماہ پتا بھی نہیں چلے گا کہ کہاں گئے؟ سابق گورنر سندھ محمد زبیر
دہشت گردی کی مذمت اور پاکستان کی قربانیاں
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے کسی کی بھی قربانی نہیں ہے، اور ہمارے ہمسایہ ملک کی جانب سے بغیر ثبوت پاکستان پر الزام تراشی کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی میں سینیٹ کی خالی نشست پر انتخاب کیلئے پولنگ جاری، 4 امیدوار مدمقابل
پانی کے مسئلے پر سخت موقف
بھارت کی جانب سے آبی جارحیت پر انہوں نے کہا کہ "پانی ہماری لائف لائن ہے، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔" پاکستان اپنی سلامتی اور خود مختاری کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گا اور کوئی مہم جوئی ہوئی تو فروری 2019 کی طرح منہ توڑ جواب دیں گے۔
ملک کی سالمیت اور معاشی استحکام
وزیراعظم نے کہا کہ وطن عزیز کی سالمیت پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے اور قومی وقار و مفاد کے خلاف ہر مہم جوئی کا مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے معاشی استحکام کے لیے کوششوں کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔








