رشتہ دار کی کینسر کی سرجری، مینیجر نے ایسی شرمناک فرمائش کردی کہ خاتون نے فوری نوکری چھوڑ دی
واقعہ کی تفصیل
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایک خاتون ملازمہ کی جانب سے اپنے مینیجر کے غیر ہمدردانہ رویے پر نوکری چھوڑنے کا واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا، جس پر ملازمین کے حقوق اور دفتری ماحول میں ہمدردی کی کمی پر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جمہوریہ اسلامی ایران کی وزارتِ خارجہ کا اسرائیل اور امریکہ کی جارحیت کے حوالے سے اعلامیہ جاری
سرجری کے باعث عدم موجودگی
این ڈی ٹی وی کے مطابق خاتون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ وہ اپنے رشتے دار کی کینسر کی سرجری کے باعث ایک دفتری سیمینار میں شرکت نہیں کر سکیں، جس کی پیشگی اطلاع انہوں نے اپنی ٹیم لیڈ کو دے دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی مڈل ٹیمپل میں شمولیت پر پی ٹی آئی لندن میں احتجاج کی وجوہات کیا ہیں؟
مینیجر کا رد عمل
تاہم ان کے مینیجر نے اس اطلاع کو نظر انداز کرتے ہوئے ان سے نہ صرف اپنی موجودگی کا ثبوت مانگا بلکہ ہسپتال کی تصاویر، جی پی ایس لوکیشن اور میڈیکل پرچیوں کی بھی فرمائش کر دی۔ خاتون کے مطابق جب انہوں نے اس رویے کو بے عزتی قرار دیا تو مینیجر نے ان پر "رویہ خراب ہونے" کا الزام لگا دیا اور بار بار طنزیہ انداز میں پوچھتے رہے: "تم نے سرجری کرنی تھی؟"
یہ بھی پڑھیں: قاسم رونجھو آپ بیتی سنانا چاہتے تھے، حکومت نے شرمندگی سے بچنے کیلئے کورم توڑا، اختر مینگل
استعفیٰ کا فیصلہ
خاتون نے مزید دعویٰ کیا کہ مینیجر نے انہیں تقریباً 30 منٹ تک ڈانٹ پلائی اور معافی نامے کے ساتھ ہسپتال کی دستاویزات بھیجنے کا حکم دیا۔ اس کے جواب میں خاتون نے استعفیٰ کا ای میل بھیج دیا۔
سوشل میڈیا پر غم و غصہ
یہ واقعہ سوشل میڈیا صارفین میں شدید غصے کا باعث بنا، جنہوں نے اسے زہریلے دفتری کلچر اور ذاتی زندگی میں مداخلت کی بدترین مثال قرار دیا۔ کئی صارفین نے لکھا کہ اس قسم کے سخت گیر مینیجرز کو اکثر اعلیٰ انتظامیہ کی حمایت حاصل ہوتی ہے، جو ایک بڑے مسئلے کی علامت ہے۔








