بھارتی فوج کا کسانوں کو 48 گھنٹے میں سرحدوں پر موجود کھیت خالی کرنے کا حکم
بھارت کی بوکھلاہٹ
نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن)پہلگام حملے کے بعد بھارت کی بوکھلاہٹ کھل کر سامنے آ گئی ہے، بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے سرحدی علاقوں کے کسانوں کو 48 گھنٹوں میں فصلوں کی کٹائی مکمل کرنے اور کھیت خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ ورنہ ان کے کھیتوں تک رسائی بند کر دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی گفتگو کو انکی ہدایت کے مطابق بیان کرنا بہنوں کا فرض ہے، کوئی ان کو اس فرض کی ادائیگی سے نہیں روک سکتا، سلمان اکرم راجا
کسانوں میں خوف کی لہر
نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے مطابق بی ایس ایف کی جانب سے جاری کردہ سخت ہدایت نے پنجاب کی سرحدی برادریوں، خصوصاً امرتسر، ترن تارن، فیروز پور اور فاضلکہ کے ہزاروں کسانوں کو شدید خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ گاؤں کے گردواروں میں اعلانات کیے جا رہے ہیں کہ اگر فوری طور پر کھیت خالی نہ کیے گئے تو بارڈر گیٹس بند کر دیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی 60 ممالک کو معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت
دباؤ کا سامنا
بھانگلا گاؤں کے کسان رگھبیر سنگھ نے بتایا، 'بی ایس ایف اہلکار دو دن سے مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں کہ جلد از جلد کام مکمل کرو، ورنہ راستے بند کر دیے جائیں گے۔' انہوں نے کہا کہ جانوروں کے چارے کے لیے بھوسہ انتہائی ضروری ہوتا ہے، اور اگر کام مکمل نہ ہوا تو کسان سال بھر مشکل میں رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: جنہوں نے سنی اتحاد کو جوائن کیا ان کی واپسی کیسے ہو سکتی ہے اصل سوال یہ ہے،جسٹس امین الدین خان
زرعی مشینری کی اجازت
بھارت کی بوکھلاہٹ کا عالم یہ ہے کہ بی ایس ایف نے مزید زرعی مشینری کی سرحدی علاقوں میں منتقلی کی اجازت دی ہے تاکہ کسان جلدی سے کھیت خالی کر سکیں۔ لیکن کسانوں کا کہنا ہے کہ دو دن میں اتنا بڑا کام مکمل کرنا ناممکن ہے اور وہ خوفزدہ ہیں کہ حالات مزید خراب ہوئے تو آئندہ دھان کی فصل کیسے بوئیں گے؟
یہ بھی پڑھیں: افغان سفیر کی ایرانی سفارتخانے آمد، سفیر رضا امیری مقدم سے ملاقات، آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر اظہار تعزیت کیا
چیلنجز کا سامنا
فیروز پور ضلع کے راجہ رائے گاؤں کے لکشویندر سنگھ نے کہا کہ 'اگرچہ گندم کی 80 فیصد کٹائی مکمل ہو چکی ہے، مگر بھوسہ اکٹھا کرنا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔'
یہ بھی پڑھیں: معاملہ حکمت و فہم و فراست کے ساتھ ڈیل کیا جاتا تو عمران خان جو تیسرا رمضان جیل میں گزار رہا ہے شاید آج اڈیالہ جیل کے بجائے ہسپتال میں ہوتا، علی محمد خان
پاکستان کے ساتھ کشیدگی
بی ایس ایف حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اعتراف کیا کہ یہ اقدامات پاکستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر کیے جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ پہلگام حملے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات مزید خراب ہو چکے ہیں، اور کئی سرحدی راستے بند کر دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عدالت نے خلیل الرحمٰن قمر ہنی ٹریپ کیس کا تہلکہ خیز فیصلہ سنا دیا
سرکاری موقف
سرکاری موقف کے مطابق، بی ایس ایف کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام سیکیورٹی کے لیے ضروری ہے کیونکہ کچے کھیت سرحدی نگرانی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یہ بشریٰ بی بی کی سیاسی لانچنگ ہے، اب بات کس کے ساتھ ہو گی، دھرنا کیسے ختم ہوگا۔۔۔؟ عاصمہ شیرازی نے بتا دیا
حکومت کے دعووں کا جھوٹ
حیران کن طور پر، جب سوشل میڈیا پر ان اعلانات کی ویڈیوز وائرل ہوئیں تو امرتسر کی ڈپٹی کمشنر سکشی ساونی نے دعویٰ کر دیا کہ 'بی ایس ایف کی جانب سے کوئی سرکاری اعلان نہیں ہوا۔' انہوں نے شہریوں کو 'افواہوں' پر دھیان نہ دینے کی ہدایت کی۔ مگر کسانوں کی براہِ راست شکایات اور گرودواروں سے نشر ہونے والے اعلانات نے بھارتی حکومتی دعووں کو بے نقاب کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ریلوے کی محبت میں گرفتار ہونے کے باوجود حسرت رہی کہ سمجھ سکوں سپیکر پر کیا کہا جاتا ہے؟ صرف یہ سمجھ آتا ہے ”آ رہی ہے“ یا ”جا رہی ہے“
کسانوں کے مطالبات
سرحدی علاقوں کے کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر حالات یونہی رہے تو وہ بی ایس ایف کے اعلیٰ حکام سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ کسانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر زیادہ سے زیادہ مشینیں فراہم کی جائیں تاکہ فصل کی کٹائی مکمل ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں: پک فضائیہ کے سربراہ ایئرچیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا عراقی فضائیہ کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ
غیر یقینی صورتحال
بھارت میں سرحدی کسان آج اپنی زمینوں اور روزگار کے لیے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، اور یہ سب بھارت کی اپنی پالیسیوں کی ناکامی اور سرحد پر پیدا کی گئی مصنوعی کشیدگی کا نتیجہ ہے۔
دفاعی ماہرین کی رائے
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت نے روایتی جنگ کا آغاز کیا تو بھارت بھی محفوظ نہیں رہے گا، جنگ کا آغاز بھارت کرے گا مگر اختتام پاکستان کرے گا۔








