بھارت میں زیر تعلیم مقبوضہ جموں و کشمیر کے طلباء کیخلاف انتہا پسند ہندوؤں کا تشدد، “ہندو رکھشک دل” کی جانب سے ویڈیو پیغام میں وارننگ
مقبوضہ جموں و کشمیر کے طلباء کے خلاف تشدد میں اضافہ
لاہور (طیبہ بخاری سے) مقبوضہ جموں و کشمیر کے طلباء کیخلاف انتہا پسند ہندوؤں کے تشدد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گیا۔ "ہندو رکھشک دل" کی جانب سے ویڈیو پیغام میں وارننگ بھی جاری کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: کہ آج عید ہے شعلوں کو شبنمی کر دے
تشدد کے واقعات میں اضافہ

تفصیلات کے مطابق پہلگام فالس فلیگ حملے کے بعد بھارت میں جموں و کشمیر کے طلباء پر تشدد کے واقعات میں ہر گزرتے دن کیساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ بھارتی شہر موہالی میں ہندوؤں نے تعلیم کی غرض سے ہاسٹل میں رہائش پذیر کشمیری طالبات کو بھی نہیں چھوڑا، طالبات کو ہراساں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بیمار افراد کے لیے حج کرنا ممنوع قرار دے دیا گیا، سعودی حکومت نے سخت پابندی عائد کردی
کشمیری طالبہ کا بیان

ایک کشمیری طالبہ نے بتایا کہ "ہندوؤں نے اس کے ہاسٹل کے دروازے پر لاتیں ماریں، گالیاں دیں اور اسے دھمکیاں دیں، مجھے اور میری دوست کو حملہ آوروں سے بچنے کیلئے بھاگنا پڑا۔"
یہ بھی پڑھیں: آدھی رات کے وقت پٹاخوں کے پھٹنے سے پورا ہاسٹل گونجتا، بچے گونج سے جاگ اٹھتے، پریشان ہوتے تھے لیکن کوئی سراغ نہ لگا سکا کہ یہ دھماکے کون کرتا تھا
چندی گڑھ میں حملہ
دوسری جانب چندی گڑھ میں کشمیری طلباء کے گروپ پر یونیورسٹی کے یونیورسل گروپ میں حملہ کیا گیا۔ دہرادون میں "ہندو رکھشک دل" کی جانب سے ویڈیو پیغام میں کشمیریوں کو وارننگ دی گئی ہے۔
ماہرین کی رائے
ان حالات میں ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی انتہا پسند ہندوؤں نے ثابت کر دیا ہے کہ انہیں کشمیری نہیں، کشمیر کی زمین پر قبضہ چاہیے۔








