سب سے اہم کام مختلف اسٹیشنوں سے لائی گئی رقوم وصول کرنا ہوتا ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ گارڈ رقم گن کر کسی کو پکڑا دے یا نوٹوں سے بھرالفافہ تھما دے۔
مصنف کی معلومات
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 111
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا سٹار احمد شاہ کا چھوٹا بھائی عمر انتقال کرگیا
گاڑی کے عملے کی ذمہ داریاں
ایک طرف تو آنے والی گاڑی کے ڈرائیور، اسسٹنٹ ڈرائیور اور گارڈ اس کو نئی منزل تک لے جانے کے لیے نئے عملے کے حوالے کر رہے ہوتے ہیں تو اسٹیشن پر حسب دستور کچھ اور نوعیت کے کام بھی ہو رہے ہوتے ہیں،خصوصاً لاہور چونکہ ریلوے کا مرکزی اسٹیشن اور صدر مقام بھی ہے، اس لیے یہاں تنظیمی نوعیت کے کام بھی چلتے رہتے ہیں۔ جن میں سب سے اہم کام مختلف اسٹیشنوں سے لائی گئی رقوم کو وصول کرنا بھی ہوتا ہے۔ لیکن یہ ایسا نہیں ہوتا کہ گارڈ کوئی رقم گن کر کسی کو پکڑا دے یا نوٹوں سے بھرا ہوا کوئی لفافہ تھما دے۔ یہ کام بہت مربوط اور ایک حفاظتی نظام کے تحت ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آمد کا بہت بہت شکریہ، 4 سال بعد ناکامی کا زخم قدرے مندمل ہوچکا تھا لیکن ایک کسک باقی تھی، دوسرے لوگوں کی مدد کیلیے اِدھر اُدھر چکّر لگانے لگا
کیش بکس کا نظام
یہاں یہ ساری رقم اور مالی دستاویزات ایک کیش بکس میں پہنچائی جاتی ہیں۔ گارڈ کچھ لکھت پڑھت کے بعد کئی چھوٹے بڑے کیش بکس اسٹیشن پر موجود ریلوے کے مالیاتی محکمے کے نمائندے کے حوالے کرتا ہے۔ اور یہ سب کچھ سو برس پرانے ضابطوں اور طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے کیش بکس کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ چلیں اسے بھی لگے ہاتھوں دیکھ ہی لیں کہ یہ سب کام کیسے ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ، بغیر اجازت شادی پر شوہر کو پہلی بیوی کو 10 لاکھ حقِ مہر دینے کا حکم
لاہور جنکشن پر کیش بکس کی وصولی
ریلوے کے مرکزی اسٹیشن پر، جو پاکستان میں لاہور جنکشن ہے، گاڑی رکنے کے فوراً بعد گارڈ اپنی نگرانی اور پولیس کی موجودگی میں مختلف اسٹیشنوں سے لائے گئے بھاری کیش بکس پلیٹ فارم پر موجود مالیاتی محکمے کے عملے کے سپرد کرتا ہے۔ اور ان سے اِن کیش بکس کی وصولی کی رسید لیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سلطنت فارس کی 2500 سالہ تاریخ اور ایران کی آخری ملکہ کی سالگرہ کے موقع پر یحییٰ خان کی بے چینی
کیش بکس کی خصوصیات
کیش بکس فولاد کی ایک انتہائی مضبوط چادر کی بنی ہوئی ایک چھوٹی سی تجوری ہوتی ہے جس کو بغیر چابی کے کھولنا یا توڑنا نا ممکن ہے، کم از کم ریلوے کا محکمہ تو یہی دعویٰ کرتا ہے۔ اس میں مختلف اسٹیشن ماسٹر اپنی دن بھر کی کمائی یعنی نقد رقوم یا بینک ڈرافٹ وغیرہ کی صورت میں بند کرکے لاہور ہیڈ آفس روانہ کرتے ہیں۔ اس کو صرف لاہور مرکز کے مالیاتی ادارے کے افسر ہی ایک مخصوص چابی سے کھول اور بند کر سکتے ہیں ان کے علاوہ اس کی چابی کسی کے پاس نہیں ہوتی، یہاں تک کہ جس اسٹیشن سے یہ بکس چلتا ہے وہاں کا اسٹیشن ماسٹر بھی اسے نہیں کھول سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے پیٹرولیم لیوی میں بھی بڑا اضافہ کردیا
رقوم کی تفصیلات کا نظام
متعلقہ اسٹیشن ماسٹر دن بھر کی وصول کی گئی نقد رقوم اور اس کی تفصیل لکھ کر ایک چھوٹی سی تھیلی میں ڈال کر بکس میں بنے ہوئے ایک مخصوص راستے سے اس بکس کے اندر پھینک دیتا ہے۔ پھر وہ اسٹیشن ماسٹر اگر چاہے بھی تو اس کو دوبارہ واپس نہیں نکال سکتا اور نہ ہی اپنی کسی غلطی کا ازالہ کرسکتا ہے۔ یہ بکس گاڑی کے راستے میں آنے والا ہر اسٹیشن ماسٹر لاہور بھیجتا ہے اور اس کا باقاعدہ حساب کتاب رکھا جاتا ہے۔
لاہور میں کیش بکس کی پروسیسنگ
لاہور میں مرکزی خزانچی اپنے اعلیٰ افسر کی موجودگی میں اسے کھول کر نقد رقم اور بینک ڈرافٹ وغیرہ تھیلی سے نکال لیتا ہے اور اس کا میزان ساتھ آئی ہوئی تفصیل سے ملاتا ہے اور پھر مطمئن ہونے پر اس کی رسید بذریعہ ڈاک واپس اس اسٹیشن کو بھیج دیتا ہے اور کیش بکس کو واپس جاتی ہوئی گاڑی کے کسی گارڈ کی تحویل میں دے دیا جاتا ہے جو متعلقہ اسٹیشن پر اسے اسٹیشن ماسٹر کے سپرد کر دیتا ہے.
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








