یہ پالیسی فیصلہ بھی کر لیں سول نظام ناکام ہو چکا، سب کیسز فوجی عدالت بھیج دیں: آئینی بنچ
اسلام آباد: ملٹری ٹرائل کیس کی سماعت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) آئینی بنچ کے جج جسٹس جمال خان مندوخیل نے سویلینز کے ملٹری ٹرائل کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل سے کہا کہ یہ پالیسی فیصلہ بھی کر لیں، سول نظام ناکام ہو چکا، سب کیسز فوجی عدالت بھیج دیں۔
یہ بھی پڑھیں: برکس سربراہی اجلاس کی میزبانی: کیا پوتن کا مقصد یہ ہے کہ وہ دکھائیں کہ روس کو تنہا کرنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں؟
سماعت کا پس منظر
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کے فیصلوں کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بنچ نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی بیلسٹک میزائل میں کلسٹر بم وار ہیڈ کا استعمال: اسرائیلی میڈیا
اٹارنی جنرل کے دلائل
دوران سماعت اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میں نے 3 نکات پر دلائل دینے ہیں۔ 9 مئی کے واقعات پر وزرات دفاع کے وکیل خواجہ حارث بھی دلائل دے چکے ہیں۔ میں بھی اس معاملے پر کچھ تفصیل عدالت کے سامنے رکھوں گا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ٹی برآمدات 876 ملین ڈالرز تک پہنچ گئیں
دلائل کی تفصیلات
اٹارنی جنرل نے کہا کہ دلائل کا تیسرا نکتہ اپیل کے حق سے متعلق ہوگا۔ ملٹری ٹرائل کا سامنا کرنے والوں کو اپیل کا حق دینے کا معاملہ پالیسی میٹر ہے، اس پر ہدایات لے کر ہی گزارشات عدالت کے سامنے رکھ سکتا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت اور بنگلہ دیش نے ایک دوسرے پر تجارتی پابندیاں عائد کر دیں
عدالت کے ریمارکس
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ نے جو کرنا ہے کرے وہ ان کا پالیسی کا معاملہ ہے۔ ہم نے صرف اس کیس کی حد تک معاملے کو دیکھنا ہے۔
سماعت کا اختتام اور اگلی تاریخ
بعدازاں سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کے فیصلوں کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت 5 مئی تک ملتوی کر دی۔








