یہ پالیسی فیصلہ بھی کر لیں سول نظام ناکام ہو چکا، سب کیسز فوجی عدالت بھیج دیں: آئینی بنچ
اسلام آباد: ملٹری ٹرائل کیس کی سماعت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) آئینی بنچ کے جج جسٹس جمال خان مندوخیل نے سویلینز کے ملٹری ٹرائل کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل سے کہا کہ یہ پالیسی فیصلہ بھی کر لیں، سول نظام ناکام ہو چکا، سب کیسز فوجی عدالت بھیج دیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے میزائل اور ڈرون حملے، خلیجی ممالک میں امریکی فوجی مواصلاتی تنصیبات اور ریڈومز شدید متاثر
سماعت کا پس منظر
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کے فیصلوں کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بنچ نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ نے جیفری اپسٹین سے کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کر دی
اٹارنی جنرل کے دلائل
دوران سماعت اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میں نے 3 نکات پر دلائل دینے ہیں۔ 9 مئی کے واقعات پر وزرات دفاع کے وکیل خواجہ حارث بھی دلائل دے چکے ہیں۔ میں بھی اس معاملے پر کچھ تفصیل عدالت کے سامنے رکھوں گا۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر: سیاحوں کی گاڑی کھائی میں جا گری، سیاحوں کا تعلق لاہور سے ہے
دلائل کی تفصیلات
اٹارنی جنرل نے کہا کہ دلائل کا تیسرا نکتہ اپیل کے حق سے متعلق ہوگا۔ ملٹری ٹرائل کا سامنا کرنے والوں کو اپیل کا حق دینے کا معاملہ پالیسی میٹر ہے، اس پر ہدایات لے کر ہی گزارشات عدالت کے سامنے رکھ سکتا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: صدر زرداری عراق کا دورہ مکمل کرکے وطن واپس پہنچ گئے
عدالت کے ریمارکس
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ نے جو کرنا ہے کرے وہ ان کا پالیسی کا معاملہ ہے۔ ہم نے صرف اس کیس کی حد تک معاملے کو دیکھنا ہے۔
سماعت کا اختتام اور اگلی تاریخ
بعدازاں سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کے فیصلوں کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت 5 مئی تک ملتوی کر دی۔








