نوجوان شاعر کامران حسانی کے شعری مجموعہ کلام “گلِ تازہ” کی رونمائی اور تمغہء فکروفن کا اجراء
تقریب رونمائی کا آغاز
ریاض (وقار نسیم وامق) سعودی عرب میں معروف ادبی تنظیم عالمی حلقہء فکروفن کے زیرِ اہتمام نوجوان شاعر کامران حسانی کے شعری مجموعہ "گلِ تازہ" کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں شعراء و ادباء، سفارت خانہ پاکستان کے افسران، شائقینِ شعر و ادب، پاکستانی کمیونٹی کے نمایاں افراد اور مختلف تنظیموں کے نمائندوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
یہ بھی پڑھیں: عدالتی تعطیلات، سپریم کورٹ میں پیر سے شروع ہونے والے ہفتے میں مقدمات کی سماعت کے لیے 3 بینچز تشکیل
صدارت اور مہمان خصوصی
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقدہ تقریبِ رونمائی کی صدارت معروف شاعر اور ادیب سید طیب رضا کاظمی نے کی، جبکہ مہمانِ خصوصی سفارت خانہ پاکستان کے قونصلر توصیف خاور تھے۔ نظامت کے فرائض عالمی حلقہء فکروفن کے صدر وقار نسیم وامقٓ نے بخوبی سرانجام دیے۔
یہ بھی پڑھیں: مستعفی ججز اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کے لیے کوششیں کرتے رہے ہیں، رانا ثنا اللہ
شعری مجموعہ کی رونمائی
صدرِ تقریب سید طیب رضا کاظمی نے مہمانِ خصوصی قونصلر سفارت خانہ پاکستان توصیف خاور، عالمی حلقہء فکروفن کے صدر وقار نسیم وامقٓ اور دیگر مشاہیر کے ہمراہ حاضرین کی موجودگی میں شاعر کامران حسانی کے مجموعہ کلام "گلِ تازہ" کی باقاعدہ رونمائی کی۔
یہ بھی پڑھیں: منڈی بہاؤالدین: 8 سالہ اغوا بچی جنسی زیادتی کے بعد قتل، لاش کھیت سے برآمد
ادبی تجزیات
اس موقع پر مرکزی صدر عالمی حلقہء فکروفن وقار نسیم وامق نے کہا کہ اردو کے گلستان میں "گلِ تازہ" شعری مجموعہ کا حسین اضافہ ہوا ہے اور اس کی خوشبو سے ادبی دنیا مہک اٹھی ہے۔ کامران حسانی ایک حساس تخلیق کار ہیں جو اپنی شاعری کے ذریعے دنیا کو ایک نیا زاویہ دکھا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خفیہ بینک اکاؤنٹس اور رقم کی واپسی کا کیس: ایف آئی اے اور ایف بی آر سے رپورٹ طلب
تخلیقی خوبیوں کا ذکر
مرکزی سیکرٹری جنرل عالمی حلقہء فکروفن ڈاکٹر طارق عزیز نے کہا کہ "گلِ تازہ" میں زبان کی لطافت، خیال کی بلندی، جذبے کی صداقت، اور فن کی پختگی ہم آہنگ نظر آتی ہے۔ کامران حسانی عصرِ حاضر کے نمائندہ شاعر ہیں جو اپنے عہد کی دھڑکنوں کو سنا اور اپنے اشعار میں ان کا بہترین اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دورہ ویسٹ انڈیز کے لیے قومی اسکواڈ کا اعلان، محمد رضوان کپتان برقرار
تعریفی کلمات
پاکستان انٹرنیشنل سکول کے سنیئر استاد پروفیسر گوہر رفیق نے کہا کہ شعر و ادب انسان کی ضرورت ہے اور اس طرح کی کوششوں کو سراہنا چاہئے جو ہمیں علم و ادب سے متعارف کرواتی ہیں۔ کامران حسانی کی شاعری میں خیالات کی پختگی اور موضوعات کی وسعت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات میں گرمی کا 16 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا
محبت اور جذبے کی باتیں
عالمی حلقہء فکروفن کے سنیئر نائب صدر قاضی محمد اسحاق میمن نے کامران حسانی کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شاعری میں ہمارے دل کی باتیں، محبت، اور جذبے ہیں، جو ہمیشہ تازہ رہیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: نو منتخب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے عہدہ سنبھالتے ہی پی ٹی آئی کی خاتون کارکن صنم جاوید کے گرفتاری کے معاملے کا نوٹس لے لیا۔
مہمانِ خصوصی کا پیغام
مہمانِ خصوصی توصیف خاور نے نوجوان شاعر کامران حسانی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ شاعر اور ادیب ملک و قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ عالمی حلقہء فکروفن کی شعر و ادب کی ترویج کی کاوشیں لائقِ تحسین ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہمیں اپنی ایئر فورس پر فخر ہے، جارحیت اور سیز فائر کی خلاف ورزی سے بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے آیا: ڈی جی آئی ایس پی آر
صدارتی کلمات
صدرِ تقریب نامور شاعر سید طیب رضا کاظمی نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ کتاب کی تخلیق ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے اور کامران حسانی نے جس کامیابی سے یہ منزل طے کی ہے وہ قابلِ قدر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر متاثرہ فیملی کو چیک نہ دیا گیا تو وفاقی حکومت کے فنڈ منجمد کردوں گا، جسٹس محسن اختر کیانی کے لاپتہ شہری بازیابی کیس میں ریمارکس
شاعر کا شکریہ
نوجوان شاعر اور عالمی حلقہء فکروفن کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل کامران حسانی نے سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میری جانب سے آپ سب کے لئے شاعری کا تحفہ "گلِ تازہ" پیشِ خدمت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 150 سال پہلے تعمیر کردہ بنگلہ جو شاہ رُخ خان کی کئی خواہشات کی تعبیر بنا۔
تمغہء فکروفن کی تقریب
تقریب کے دوران عالمی حلقہء فکروفن کی جانب سے تمغہء فکروفن کے اعزاز کا اجراء کیا گیا۔ زکیر احمد بھٹی اور کامران حسانی کو یہ اعزاز ملا۔
اختتام اور عشائیہ
تقریب کے اختتام پر کامران حسانی نے "گلِ تازہ" کا تحفہ شرکائے تقریب کو پیش کیا۔ اس کے ساتھ شرکائے تقریب کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا گیا۔









