پاک بھارت کشیدگی، نظریں نوازشریف پر مرکوز
بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی
بلا شبہ اس وقت بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم بلکہ ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ پوری قوم سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طرف دیکھ رہی ہے کہ وہ آگے بڑھ کر کلیدی کردار ادا کریں کیونکہ اس وقت پاکستان میں میاں نواز شریف کی صورت میں ایک ہی قد آور شخصیت موجود ہے جو ہمیشہ خطے میں امن کی داعی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین اور بچوں پر تشدد کرنیوالوں سے نرمی نہیں برتی جائے گی: گھریلو تشدد کی شکار 13سالہ بچی سے چیئرپرسن ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کی ملاقات
میاں نواز شریف کا وطن واپسی کا فیصلہ
سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف بھی پاکستانی قوم کی امنگوں کے پیش نظر اپنی بیماری کی پرواہ نہ کرتے ہوئے لندن میں اپنا قیام مختصر کرکے واپس پاکستان آ گئے، جس کے لئے ان کو خصوصی پرواز حاصل کرنا پڑی۔ محمد نواز شریف لندن طبی معائنے کے لئے گئے تھے اور وہاں ان کے متعدد ٹیسٹ ہوئے۔ ڈاکٹر حضرات کے مطابق ابھی ان کو مزید قیام کی ضرورت تھی، لیکن انہوں نے ملکی حالات کے باعث واپسی کو ترجیح دی کیونکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی وادی پہلگام میں ہونے والی دہشت گردی سے خطے کے حالات میں درشتی در آئی تھی۔ بھارت نے تعصب کی دیرینہ روایات کے مطابق الزام پاکستان پر دھر دیا، جس کا جواب بھی بھرپور طریقے سے دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں منشیات فروشوں کی فائرنگ سے مسلم لیگ ن کا مقامی رہنما قتل ہوگیا
حالت کا جائزہ اور میٹنگز
سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے اس صورت حال کے پیش نظر فوری طور پر پاکستان آنا بہتر جانا۔ وہ واپسی کے بعد حالات سے باخبر ہو رہے ہیں اور حالات کا عمیق نگاہ سے جائزہ لے رہے ہیں۔ وہ کئی ایک میٹنگز بھی کر چکے ہیں، ان حالات میں وہ اپنے تجربات سے ضرور آگاہ کریں گے کہ ان کے دور میں سخت حالات بہتری میں تبدیل ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں 100 بچوں سے بدفعلی کے مرکزی ملزم کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں
قومی سلامتی اور بھارتی جارحیت
پاکستان کی طرف سے بھارتی اقدامات کے جواب میں فوری طور پر قومی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرکے جوابی فیصلے بھی کر دیئے گئے۔ مجموعی طور پر ملک میں بھارتی جارحیت کے خلاف اجتماعی موقف پایا جاتا ہے، جس کا اظہار جمہوری ایوانوں کے ذریعے ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات پر عمل درآمد نہ ہوسکا، لاہور کے دفاتر میں معمول کے مطابق حاضری رہی، تمام سرکاری اداروں معمول کے مطابق کام کیا۔
بین الاقوامی ردعمل اور موقف
پاک بھارت ٹینشن کی وجہ سے دنیا کو غور کرنا چاہیے، دکھ کا مقام ہے کہ بھارتی رویے پر شدید ردعمل نہیں آیا۔ تاہم، اگرچہ امریکہ کی طرف سے صورتحال کا جائزہ لینے کا بیان سامنے آیا ہے، ہمیں دوست ممالک کو اپنے موقف سے قائل کرنے کی ضرورت ہے۔
سینیٹر فیصل واؤڈا کی تجویز
موجودہ ملکی صورتحال میں سینیٹر اور سابق وفاقی وزیر فیصل واؤڈا کی تجویز بہت اچھی ہے جس پر فوری غور کرکے فیصلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے درست کہا کہ بھارتی جارحیت ملکی سلامتی کا مسئلہ ہے اور پوری قوم ایک صفحے پر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو پیش قدمی کرنا چاہیے اور نیشنل ایکشن پلان کا اجلاس بلا لیا جائے۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نکتہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔








