کینیڈین پارلیمانی انتخابات: حکمراں لبرلز کو حریف کنزریٹوز پر برتری
انتخابات کا وقت ختم
ٹورنٹو(ڈیلی پاکستان آن لائن) کینیڈا کے اگلے وزیر اعظم کو منتخب کرنے کے لیے ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ووٹنگ کا وقت ختم ہوگیا، جس کے بعد نتیجے کے حوالے سے ابتدائی اعدادو شمار بھی آنا شروع ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر حملہ کرنے والے طیارے اس وقت کہاں ہیں۔؟ پاسداران انقلاب نے بڑا دعویٰ کر دیا
ووٹنگ کا وقت اور عمل
کینیڈا میں پارلیمانی انتخابات پر ووٹنگ صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک جاری رہی، جس میں شہریوں نے اپنے حق رائے دہی کو استعمال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ملک کے اگلے وزیرِ اعظم ہوں گے، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی
امیدواروں کا مقابلہ
کینیڈا کے وزیراعظم اور لبرل پارٹی کے امیدوار مارک کارنی اور کنزرویٹو پارٹی کے پیئر پولی ایو کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع تھا۔ 343 کے ایوان میں اکثریت حاصل کرنے کیلئے کسی بھی پارٹی کو 172 نشستیں درکار ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: سالِ نو کے موقع پرکراچی میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد،نوٹیفکیشن جاری کر دیاگیا
ابتدائی نتائج کی پیشگوئی
خبر رساں ایجنسی کے مطابق، متعدد میڈیا اداروں نے پیشگوئی کی ہے کہ وزیرِ اعظم مارک کارنی کی لبرل پارٹی نے کینیڈا کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی۔
پبلک براڈکاسٹر سی بی سی اور سی ٹی وی نیوز دونوں نے پیشگوئی کی ہے کہ لبرل پارٹی کینیڈا کی اگلی حکومت تشکیل دے گی، تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا پارٹی کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہوئی ہے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 56 Pakistanis Imprisoned in Sri Lanka for Years to Return Home Today
سیٹوں کا ابتدائی تخمینہ
ووٹنگ کے بعد ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق، لبرل پارٹی کو 158 جبکہ کنزرویٹو پارٹی کو 143 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔ اس کے علاوہ بلاک کیوبک کو 24 اور این ڈی پی کو 10 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد میں بڑی توند والے پولیس ملازمین کیلئے خصوصی جم کا قیام
پچھلے انتخابات کا تناظر
یاد رہے کہ الیکشن سے پہلے لبرلز کے پاس 152 اور کنزریٹوز کے پاس 120 نشستیں تھیں، جبکہ بلاک کیوبک کے پاس 33 اور این ڈی پی کے پاس 24 نشستیں تھیں۔
انتخابی مسائل
یہ الیکشن ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا پر عائد ٹیرف ووٹرز کے ذہنوں پر سوار ہیں۔ اس کے ساتھ ہی شہری علاقوں میں گھروں کی قیمتیں زیادہ ہونا، بے روزگاری کی شرح 6.7 فیصد ہونا اور ہیلتھ کیئر تک لوگوں کی رسائی میں دشواری سمیت دیگر مسائل بھی لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبزول کیے ہوئے ہیں۔








