آئندہ 5 سالوں میں روبوٹس انسانی سرجنز کو پیچھے چھوڑ دیں گے، ایلون مسک کا دعوی
ایلون مسک کا دعویٰ
واشنگٹن (آئی این پی) - ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک نے کہا ہے کہ آئندہ 5 برسوں میں روبوٹس بہترین انسانی سرجنز کو پیچھے چھوڑ دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: چکوال میں دھرابی کے مقام پر بنایا گیا چھوٹا ڈیم ٹوٹ گیا
نیورالنک کی ٹیکنالوجی
غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق ایلون مسک، جو ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ہیں، نے بتایا کہ ان کی کمپنی نیورالنک دماغ میں باریک الیکٹروڈز نصب کرنے کے لیے روبوٹس کا استعمال کرتی ہے کیونکہ یہ کام انسانوں کے لیے ناممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟
سوشل میڈیا پر بیان
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، "روبوٹس چند سالوں میں انسانی سرجنز سے بہتر کام کریں گے اور پانچ سال میں بہترین سرجنز سے بھی آگے نکل جائیں گے۔" ایلون مسک کا کہنا تھا کہ نیورالنک کمپنی کو روبوٹ کا ہی سہارا لینا پڑا کیونکہ انسان مطلوبہ رفتار اور درستگی کے ساتھ یہ کام انجام نہیں دے سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو تبدیل کرنے کا فیصلہ
ماریو نوفال کا ذکر
یہ بات ایلون مسک نے اس وقت کہی جب سوشل میڈیا پر اثر و رسوخ رکھنے والے ماریو نوفال نے ایک امریکی میڈیکل کمپنی میڈرونک کی بڑی کامیابی کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی نے اپنا ہیوگو نامی روبوٹک سسٹم 137 سرجریز میں کامیابی سے استعمال کیا، جن میں مثانے، گردے اور پروسٹیٹ کے آپریشن شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: رینجرز اور پولیس اہلکاروں پر حملے، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا بیان بھی آ گیا
سرجری کے نتائج
سرجریوں کے نتائج ڈاکٹروں کی توقع سے بھی بہتر نکلے، اور کامیابی کی شرح 98 فیصد سے زیادہ رہی۔ پروسٹیٹ سرجری میں پیچیدگی کی شرح 3.7 فیصد، گردے کی سرجری میں 1.9 فیصد اور مثانے کی سرجری میں 17.9 فیصد میں نمایاں طور پر کم دیکھی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: نیب نے عدم ثبوت کی بنیاد پر سابق چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین کیخلاف انکوائری بند کردی
نیورالنک کا کلینیکل ٹرائل
دوسری جانب، ایلون مسک کی کمپنی نیورالنک اس وقت اپنی برین کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا کلینیکل ٹرائل کر رہی ہے۔ اس کا مقصد فالج یا دماغی بیماریوں میں مبتلا افراد کو اپنے دماغ سے چیزیں کنٹرول کرنے کی صلاحیت فراہم کرنا ہے۔
امپلانٹ کی کامیابی
اب تک تین افراد کو کامیابی سے نیورالنک کا دماغی امپلانٹ لگایا جا چکا ہے، لیکن یہ ٹیکنالوجی ابھی عام لوگوں کے لیے دستیاب نہیں ہے۔








