خدشہ ہے بجٹ کے بعد پیپلزپارٹی ایک بار پھر سندھ کے پانی پر ڈاکا ڈلوائے گی: عمر ایوب
اسلام آباد میں اپوزیشن لیڈر کی گفتگو
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ دریائے سندھ کے پانی پر پیپلزپارٹی کے ڈاکے کے خلاف سب نے بھرپور کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ جوہری ہتھیار نہ رکھنے کے معاملے پر امریکہ سے متفق ہیں
پیپلزپارٹی کا الزامات
انہوں نے مزید کہا کہ 6 ماہ قبل ہم نے پارلیمنٹ میں آواز اٹھائی تھی کہ سندھ کے پانی پر ڈاکا ڈالا گیا ہے۔ آصف علی زرداری اور بلاول زرداری نے اسٹیبلشمنٹ سے ملی بھگت کر کے سندھ کا پانی بیچ دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی انتخابات میں کامیابی کے لیے پرعزم پاکستانی نژاد امیدوار: ‘گیس سٹیشن سے امریکی ریاست تک کا سفر’
خطرات اور خدشات
عمر ایوب نے کہا کہ خدشہ ہے کہ بجٹ کے بعد پیپلزپارٹی ایک بار پھر سندھ کے پانی پر ڈاکا ڈلوائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: افواہ ہے جہانگیر ترین کو گورنر پنجاب بنائے جانے کا امکان ہے، لگتا ہے ن لیگ پیپلز پارٹی کو پنجاب سے مکمل باہر کرنا چاہتی ہے، شہزاد اکبر
دریائے سندھ کی دفاع میں اتحاد
نجی ٹی وی آج نیوز کے مطابق، انہوں نے سندھ کے عوام، اپوزیشن جماعتوں، وکلا برادری اور حلیم عادل شیخ کو خراج تحسین پیش کیا، کیونکہ سب نے دریائے سندھ کے پانی پر پیپلزپارٹی کے ڈاکے کے خلاف بھرپور کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: جنرل عاصم منیر سے پہلے برصغیر کے کن 2 جرنیلوں کو فیلڈ مارشل کا عہدہ مل چکا ہے؟
پارلیمنٹ میں آواز اٹھانے کی تفصیلات
عمر ایوب نے کہا کہ 6 ماہ قبل انہوں نے پارلیمنٹ میں ایکنک کے حوالے سے ایک میٹنگ میں سندھ کے پانی پر ڈاکے کی اجازت دینے کا ذکر کیا، جہاں یہ فیصلہ کیا گیا کہ سندھ کا پانی چوری کر کے چولستان کو دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پہلی خاتون محتسب پنجاب عائشہ حامد نے عہدے کا حلف اٹھا لیا
حقائق اور دستاویزات
انہوں نے وضاحت کی کہ اس میٹنگ میں آصف علی زرداری نے اجازت دی جس کی دستاویز وہ پیش کر چکے ہیں۔ ہم سندھ کے پانی کے دفاع کے لئے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے رہے ہیں۔
بجٹ کے بعد خدشات
اپوزیشن لیڈر نے بتایا کہ سی سی آئی کے اجلاس میں کینال بنانے کا فیصلہ ابھی موخر ہوا ہے، مگر خدشہ ہے کہ بجٹ کے بعد پیپلزپارٹی ایک بار پھر سندھ کے پانی پر ڈاکا ڈال سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے سندھ کے عوام کے سینے میں خنجر کھونپا تھا۔








