وزارت قانون کی ججز ٹرانفر کیلئے سمری میں تضاد ہے، وکیل منیر اے ملک
سپریم کورٹ میں ججز ٹرانسفر کیس کی سماعت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ میں ججز ٹرانسفر کیس میں وکیل منیر اے ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ وزارت قانون کی ججز ٹرانسفر کیلئے سمری میں بھی تضاد ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا ورلڈ کپ میں پاک بھارت میچ ہوگا یا نہیں؟ بھارتی کرکٹ بورڈ نے حیران کن اعلان کر دیا
سمری میں تضاد کی نشاندہی
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں ججز ٹرانسفر کیس کی سماعت ہوئی، وکیل منیر اے ملک نے کہاکہ وزارت قانون کی ججز ٹرانسفر کیلئے سمری میں بھی تضاد ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو سیکرٹری قانون نے لکھا کوئی سندھ کا جج نہیں، چیف جسٹس پاکستان کو بھی لکھا گیا اسلام آباد ہائیکورٹ میں سندھ سے کوئی جج نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 9 لاکھ 94 ہزار نوکریاں اور روزگار کے مواقع … وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ’’ایکس‘‘ اکاؤنٹ پر پوسٹ
ججز کی شناخت کی وضاحت
جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ آپ کہنا چاہتے ہیں ہائیکورٹ کی جسٹس ثمن رفعت کا تعلق سندھ سے ہے، جسٹس ثمن رفعت کا تعلق کراچی سے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی: ٹک ٹاکر لڑکی کے بال کاٹنے کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی
پہلی سمری میں غلطی
جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہاکہ پہلی جو سمری تیار ہوئی اس میں اندرون سندھ کا ذکر تھا، یہ انجانے میں غلطی ہو سکتی ہے اندرون سندھ کے بجائے سندھ لکھا گیا، کراچی کو تو اندرون سندھ سے الگ ہی لکھا جاتا ہے۔
حکومت کی ناکامی کی عکاسی
منیر اے ملک نے کہاکہ سمری میں غلطیاں حکومت کی نااہلی اور غیرسنجیدگی کو ظاہر کرتی ہیں۔ سپریم کورٹ میں ججز ٹرانسفر کیس کی سماعت 7 مئی تک ملتوی کردی گئی۔








