وزارت قانون کی ججز ٹرانفر کیلئے سمری میں تضاد ہے، وکیل منیر اے ملک
سپریم کورٹ میں ججز ٹرانسفر کیس کی سماعت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ میں ججز ٹرانسفر کیس میں وکیل منیر اے ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ وزارت قانون کی ججز ٹرانسفر کیلئے سمری میں بھی تضاد ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گاڑیوں کی خرید و فروخت کے لیے بایو میٹرک، نادرا ٹیکنالوجیز کے تعاون سے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب کا نیا ڈیجیٹل نظام متعارف کرا دیا گیا
سمری میں تضاد کی نشاندہی
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں ججز ٹرانسفر کیس کی سماعت ہوئی، وکیل منیر اے ملک نے کہاکہ وزارت قانون کی ججز ٹرانسفر کیلئے سمری میں بھی تضاد ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو سیکرٹری قانون نے لکھا کوئی سندھ کا جج نہیں، چیف جسٹس پاکستان کو بھی لکھا گیا اسلام آباد ہائیکورٹ میں سندھ سے کوئی جج نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اور امریکہ میں وفود کی سطح پر مذاکرات آج اور اہم مرکزی مرحلہ کل ہوگا
ججز کی شناخت کی وضاحت
جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ آپ کہنا چاہتے ہیں ہائیکورٹ کی جسٹس ثمن رفعت کا تعلق سندھ سے ہے، جسٹس ثمن رفعت کا تعلق کراچی سے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وہ میٹھے سروں میں بات کرتا، بولتا جا رہا تھا، بھید کھولتا جا رہا تھا، اس کی بتائی باتیں بہت حد تک درست تھیں۔ اب باری باری سبھی اس کو ہاتھ دکھانے لگے۔
پہلی سمری میں غلطی
جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہاکہ پہلی جو سمری تیار ہوئی اس میں اندرون سندھ کا ذکر تھا، یہ انجانے میں غلطی ہو سکتی ہے اندرون سندھ کے بجائے سندھ لکھا گیا، کراچی کو تو اندرون سندھ سے الگ ہی لکھا جاتا ہے۔
حکومت کی ناکامی کی عکاسی
منیر اے ملک نے کہاکہ سمری میں غلطیاں حکومت کی نااہلی اور غیرسنجیدگی کو ظاہر کرتی ہیں۔ سپریم کورٹ میں ججز ٹرانسفر کیس کی سماعت 7 مئی تک ملتوی کردی گئی۔








