کمپیٹیشن کمیشن: 8 بڑی پولٹری ہیچریوں کو کارٹل بنانے پر 15 کروڑ روپے جرمانہ
کمپنی کمیشن کا بڑا اقدام
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے چوزوں کی قیمتوں میں گٹھ جوڑ اور مصنوعی اضافے پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے 8 بڑی پولٹری ہیچریوں کو کارٹل بنانے پر 15 کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
چوزے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق کمپٹیشن کمیشن کے مطابق ڈے اولڈ چوزے کی قیمت میں 346 فیصد تک اضافہ کیا گیا جس کے باعث براہ راست چکن کی قیمت میں اضافہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: توہین الیکشن کمیشن کیس: عمران خان کو پیش نہ کرنے پر جیل حکام سے جواب طلب
قیمتوں کا طے کرنا
تحقیقات کے دوران یہ انکشاف سامنے آیا کہ ہیچریز واٹس ایپ گروپ کے ذریعے روزانہ قیمتیں طے کرتی تھیں۔ ‘چک ریٹ اناؤنسمنٹ’ نامی واٹس ایپ گروپ میں روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں فکس کی جاتیں۔
یہ بھی پڑھیں: میں نے ان کی آنکھوں میں خوف دیکھا: امدادی کارکن نے ایرانی حملے کے بعد اسرائیل کا منظر بیان کر دیا
پولٹری مارکیٹنگ کی گڑبڑ
کمیشن کے مطابق بگ برڈ کے مارکیٹنگ مینجر ڈاکٹر شاہد نئی قیمتیں جاری کرتے رہے۔ قیمتیں 198 مرتبہ واٹس ایپ اور ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے شیئر کی گئیں، جن میں 108 بار ٹیکسٹ میسج اور 87 مرتبہ واٹس ایپ کا استعمال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: عدالتیں اپنے احکامات پر عمل کروائیں، ہم کوئی ریلیف نہیں قانون کے مطابق انصاف مانگتے، بیرسٹر گوہر
کارٹل کا کردار
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پولٹری ایسوسی ایشن کے سینیئر عہدیدار بھی قیمتوں کی ملی بھگت میں شامل رہے، جب کہ کارٹل نے پنجاب، ملتان اور کراچی میں یومیہ ریٹس مقرر کیے۔ چوزے کی قیمت 17.92 روپے سے بڑھ کر 79.92 روپے تک جا پہنچی۔
یہ بھی پڑھیں: معاون خصوصی برائے سپیشل ایجوکیشن ثانیہ عاشق کا دورہ ملتان ،ڈپٹی ڈائریکٹر سپیشل ایجوکیشن اور ڈی او کی انکوائری کا حکم
عدالتی کارروائی
صادق پولٹری اور اسلام آباد فیڈز نے کمیشن کی کارروائی کے خلاف حکمِ امتناع لے رکھا تھا، تاہم اسٹے خارج ہونے پر کمیشن نے شوکاز کی کارروائی مکمل کی اور جرمانہ عائد کیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے کمیشن کا شوکاز پر کارروائی کا اختیار برقرار رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: ایڈن مارکرام کا تاریخی کارنامہ، ٹیسٹ کرکٹ میں نیا عالمی ریکارڈ بنا ڈالا
کمیشن کا پیغام
کمپٹیشن کمیشن کے چیئرمین نے ٹریڈ ایسوسی ایشنز کو متنبہ کیا کہ وہ قیمتیں فکس کرنے سے باز رہیں۔ ڈاکٹر کبیر سدھو نے واضح کیا کہ تجارتی تنظیموں کا مقصد صرف ممران کی فلاح اور شعبے کی ترقی ہونا چاہیے، بصورت دیگر سخت کارروائی کی جائے گی۔
عوام کی شمولیت کی اپیل
ڈاکٹر سدھو نے عوام سے اپیل کی کہ کسی بھی شعبے میں کارٹل کی موجودگی اور قیمتوں کو فکس کرنے سے متعلق معلومات کمیشن کو فراہم کی جائیں۔








