بی بی سی نے بھی پہلگام حملے میں بھارت کی سکیورٹی ناکامی پر سوال اٹھا دیے
برطانوی نشریاتی ادارے کا سوال
لندن (ویب ڈیسک) برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے بھی پہلگام حملے میں سکیورٹی ناکامی پر سوال اٹھا دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سال 2025: افغان طالبان رژیم نے کیا کھویا، کیا پایا۔۔۔؟ افغان مبصرین کھل کر بول پڑے
سکیورٹی کی ناکامی
بی بی سی نے لکھا ہے کہ ابھی تک اس سوال کا جواب نہیں مل سکا کہ پہلگام کے مشہور سیاحتی مقام ’بیسرن‘ پر سیاحوں کی حفاظت کے لیے کوئی سکیورٹی اہلکار کیوں موجود نہیں تھا؟ جس پارک میں اتنے سیاح آتے ہوں وہاں سی سی ٹی وی کیمرہ کیوں نہیں تھا؟
یہ بھی پڑھیں: روڈز پر احتیاط کریں، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مزید سخت جرمانے عائد کیے ہیں، وزیراعلیٰ مریم نواز
مقامی لوگوں کی رائے
رپورٹ میں کہا گیا کہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلگام حملہ سکیورٹی کی خامی تھا۔
یہ بھی پڑھیں: یونیورسکو کی جانب سے پروفیسر ڈاکٹر سویرا شامی کی عالمی فورم میں نمائندگی
ماہر امور کشمیر کی تنقید
اس سے قبل ماہر امور کشمیر، سینیئر صحافی انورادھا بھسین نے کہا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ کشمیر کے عوامی مقامات پر بھارتی فوجی تعیناتی دیکھی ہے، اس لیے پہلگام میں سکیورٹی نہ ہونا باعثِ حیرت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک فضائیہ کے زیر اہتمام انٹرنیشنل سکواش چیمپئن شپ اختتام پذیر ، ائیر مارشل شکیل غضنفر کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت
پولیس کی تحقیقات پر سوالات
انہوں نے سوال اٹھایا کہ حملے کے چند ہی گھنٹوں بعد حملہ آوروں کے نام کیسے پولیس کو مل گئے؟ پہلے تو سکیورٹی کو وہاں پہنچنے میں بہت وقت لگا، پھر دوسری جانب چند ہی گھنٹوں میں اُن کے پاس حملہ آوروں کی تصاویر تک موجود تھیں۔ وہ اس نتیجے پر کیسے پہنچے؟
یہ بھی پڑھیں: ایسا دھماکا پہلے کبھی نہیں سنا اور ۔۔’’ تل ابیب سے اسرائیلی صحافی کا حیران کن بیان
تحقیقات کی ساکھ پر شکوک
انورادھا کے مطابق اب تک کی بھارتی تحقیقات قابل اعتبار نہیں لگتیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ
واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں 26 بھارتی سیاحوں کے قتل کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ بڑھ گیا ہے۔
بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی سمیت کیے جانے والے اقدامات پر پاکستان نے بھی بھرپور جواب دیا ہے.








