سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ملک کا نظام چلانے کا نسخہ بتا دیا
شاہد خاقان عباسی کا خطاب
کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) عوام پاکستان پارٹی کے کنوینر شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ شفاف الیکشن کروادیں، ملک کا نظام چل پڑے گا، پاکستان کے ہر مسئلے کے حل کی حقیقت قانون کی حکمرانی میں ملے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایم ڈی کیٹ کے ٹیسٹ میں کراچی کے بچے بازی لے گئے
ملکی مسائل اور عوامی مسائل
کوئٹہ میں بلوچستان ہائی کورٹ بار روم سے خطاب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک کے مسائل کی تو بات کی جاتی ہے، مگر ان کے حل کی بات نہیں کی جاتی، ہماری جماعت کا مقصد مسائل کے حل کے لیے بات کرنا ہے، ہمارا مقصد پولیٹیکل پوائنٹ سکورنگ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ میں انٹرنیشنل کامبیٹ جو جِٹسو چیمپئن شپ میں پاکستان کی شاندار کامیابی
ناانصافی کی تباہی
انہوں نے کہا کہ ناانصافی ملک کی جڑ کو کھوکھلا کردیتی ہے، جب آئین کو پامال کیا جاتا ہے تو انصاف کیسے رہے گا، انصاف نہ ہونے کی وجہ سے آج کا نوجوان مایوسی کا شکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کابینہ کا اجلاس کل دوپہر 11:30 بجے طلب، 39نکاتی ایجنڈا پیش
قانون کی حکمرانی
ان کا کہنا ہے کہ ہمارا ملک آئین کے مطابق نہیں چل رہا، ملک میں قانون اور آئین کی حکمرانی نہیں، اگر آپ کو پسند نہیں ہے تو آئین بدل دیں، مائن اینڈ منرل ایکٹ اگر آئین سے متصادم ہے تو وہ غلط ہے، آئین کے اندر جو حقوق صوبے کو دیے گئے ہیں وہ دیے جانے چاہئیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی خاتون نے چین کے پرسکون دیہی علاقے میں کیوں رہائش اختیار کر لی؟ وجہ جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں
بلوچستان کی حیثیت
سابق وزیراعظم نے کہا کہ وسائل اور آئین میں دیے گئے حقوق کے اعتبار سے بلوچستان کو سب سے امیر صوبہ ہونا چاہیے، بلوچستان کے عوام کو یہ بتایا جائے کہ ان کو ریکوڈک سے کیا ملے گا، مائنز اینڈ منرل ایکٹ پر بلوچستان میں بحث ہونی چاہیے تھی، مگر بل کو پاس کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ، مغوی بچے کے کیس میں اہم پیشرفت
کرپشن اور سیاسی نظام
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہاں لوگ 70 کروڑ روپے دے کر سینیٹر نہیں بنے؟ ہم کرپٹ لوگوں کو سینیٹ میں بھیجیں گے اور پھر توقع کریں کہ ملک چلے گا، یہ خام خیالی ہے کہ ایسے لوگ ملک اور صوبے کے مسائل حل کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پروفیسر عامر زمان کو ڈائریکٹر جنرل( ایڈمنسٹریٹر )پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کیوں تعینات کیا گیا ۔۔؟ اصل کہانی سامنے آ گئی
گوادر کی ترقی اور وفاق کی ذمہ داری
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ گوادر میں پانی اور بجلی کی فراہمی کی ذمے داری پوری نہیں کی گئی، یہ ہماری ترقی ہے کہ یہاں سے تیل اسمگل ہو کر پورے پاکستان میں جاتا ہے، ایل پی جی اور دیگر چیزوں کی اسمگلنگ الگ ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ وفاق کے بغیر صوبہ ترقی نہیں کرسکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: تین بہادر بھائیوں کا حیرت انگیز قصہ: بہادری، اتحاد اور محبت کی مثال
بلوچستان کے وسائل کی منصفانہ تقسیم
شاہد خاقان کا کہنا ہے کہ یہ پتا ہونا چاہیے کہ بلوچستان میں لیز کس کو اور کس بنیاد پر دی گئی؟ 70 سال میں ہم نے بلوچستان کے ساحل کا ایک انچ بھی ڈویلپ نہیں کیا۔
عوامی حمایت کی اہمیت
انہوں نے کہا کہ اگر غیر نمائندہ حکومتیں آئیں گی تو حالات درست نہیں ہوسکیں گے، ملک کے معاملات عوام کی تائید والے سیاستدانوں نے حل کرنا ہیں، ہم سب اس بات کے جوابدہ ہیں کہ بلوچستان اور پاکستان کے حالات اس نہج پر کیوں ہیں۔








