ایک ہی ضلع میں دو مقامات پر ٹول ٹیکس کے نفاذ سے تنگ مظاہرین نے ٹول پلازہ کیبن ہی اکھاڑ دیا
احتجاج کا آغاز
پشاور (آئی این پی) خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں مقامی رکنِ اسمبلی خورشید خٹک کی قیادت میں مشتعل مظاہرین نے این ایچ اے کے نئے ٹول پلازہ پر دھاوا بول دیا۔ مظاہرین نے ٹول پلازے کے کیبن اکھاڑ کر ہٹا دئیے اور اسے غیر قانونی قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں اپوزیشن لیڈر کون؟۔۔5نام بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ارسال
مظاہرین کا موقف
تفصیلات کے مطابق مظاہرین کا موقف تھا کہ ایک ہی ضلع میں دو مقامات پر ٹول ٹیکس کا نفاذ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کڑپہ کے مقام پر پہلے ہی ٹول ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جبکہ حال ہی میں ایک اور ٹول پلازہ قائم کر کے عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خالہ نے فائرنگ کرکے بھانجی کو موت کے گھاٹ اتاردیا، ملزمہ گرفتار
غیر قانونی اقدامات کی شکایت
مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ نئے ٹول پلازے کے لیے نہ تو کوئی باضابطہ نیلامی کی گئی اور نہ ہی کسی سرکاری فورم سے منظوری حاصل کی گئی۔ تین روز قبل این ایچ اے حکام اور پرائیویٹ کنٹریکٹرز نے پرانے ٹول پلازہ کے مقام پر بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ٹیکس وصولی شروع کی تھی جس پر شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سموگ سے نمٹنے کے اقدامات: لاہور ہائیکورٹ کا کینال روڈ سے درخت نہ کاٹنے کا حکم
احتجاجی مطالبات
احتجاج کے دوران مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ نئے ٹول پلازے کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ واقعے کے بعد ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔
ویڈیو رپورٹ







