پاکستان نے آئی ایم ایف پروگرام میں رکاوٹ ڈالنے اور اسے سیاست زدہ کرنے کی بھارتی کوششوں کو مسترد کر دیا
پاکستان کی جانب سے بھارت کی کوششوں کی مذمت
اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام میں رکاوٹ ڈالنے اور اسے سیاست زدہ کرنے کی بھارتی کوششوں کو مسترد کر دیا۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام کو سیاست زدہ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: روس کا یوکرین کے سیکڑوں ڈرونز گرانے کا دعویٰ
بھارت کا آئی ایم ایف سے مطالبہ
جیونیوز کے مطابق بھارت نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کو دیے گئے قرضوں کا ازسرِ نو جائزہ لے۔ یہ مطالبہ پہلگام حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف پروگرام میں رکاوٹ کی بھارتی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 1986ء میں ایشیئن ٹریننگ سنٹر میں ساؤتھ ایشیاء کے دیگر ممالک کے مندوبین کیساتھ ایک ماہ تک تھائی لینڈ فیملی پلاننگ پروگرام کو سٹڈی کرنے کا موقع ملا۔
پاکستان کا عزم
ذرائع کے مطابق، پاکستان پائیدار معاشی ترقی یقینی بنانے کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔ پاکستان میکرو اکنامک استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے پورے عزم سے کام کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو ختم کرنے کا منصوبہ صرف اس لیے التوا کا شکار ہے کہ ایک مناسب لیڈر کی تلاش ہے جو خان کے خلا کو پر کر سکے؟ معید پیرزادہ کا دعویٰ
بھارت کی کارروائیاں اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی
ذرائع کے مطابق بھارت کا آئی ایم ایف پروگرام پر منفی بیانیہ سندھ طاس معاہدہ کی غیرقانونی معطلی جیسا ہے۔ بھارتی اقدامات اُس کی بین الاقوامی قانون اور عالمی اداروں کو نظرانداز کرنے کا عکاس ہے، جس کا یہ رویہ خطے کی عدم استحکام کا باعث ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے 3 رافیل سمیت پانچ طیارے کتنے ناٹیکل میل اور کتنی بلندی پر گرائے گئے؟ تفصیلات سامنے آگئیں۔
پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ تعاون
خیال رہے کہ پاکستان نے گزشتہ سال آئی ایم ایف سے 7 ارب ڈالر کا بیل آؤٹ پیکیج حاصل کیا تھا، جبکہ مارچ 2025 میں پاکستان کو 1.3 ارب ڈالر کا Climate Resilience Loan بھی دیا گیا تھا۔
معاشی استحکام کی جانب پیشرفت
ان امدادی پروگرامز کی بدولت ملک کی 350 ارب ڈالر مالیت کی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے اور دیوالیہ ہونے کا خطرہ ٹل گیا ہے۔








