بھارت کی ایک اور اوچھی حرکت، پاکستان سے تمام اشیا کی براہ راست یا بالواسطہ درآمد پر پابندی لگادی
بھارت کا جارحانہ کردار
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں بغیر شواہد کے پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں 9سکینڈ میں 55لاکھ روپے کی ڈکیتی
سندھ طاس معاہدے کی معطلی
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق پہلگام کے سیاحتی مرکز پر ہونے والے واقعے کے بعد بھارت نے پہلے پاکستان کے ساتھ عالمی بینک کی ثالثی میں ہونے والا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر بند کیا۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ پر اسرائیلی حملوں میں مزید 24 فلسطینی شہید، 2 بڑے ہسپتال ایندھن کی قلت کا شکار
پاکستانیوں کے خلاف اقدامات
پھر طبی بنیادوں پر علاج کے لئے بھارت میں موجود تمام پاکستانیوں اور سفارتی عملے کو فوری ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں آج صبح پھر زمین زلزلے کے جھٹکوں سے لرز اٹھی
نئی پابندیاں
اب بھارت نے پاکستان کے خلاف ایک اور چال چلتے ہوئے تمام اشیا کی براہ راست یا بالواسطہ درآمد پر پابندی لگا دی ہے۔ بھارتی وزارت تجارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فارن ٹریڈ پالیسی 2023 میں ترمیم کرتے ہوئے پاکستان سے ہر قسم کی اشیا کی براہ راست یا بالواسطہ درآمد پر تاحکم ثانی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ انتخابات، الیکشن کیشن نے خیبرپختونخوا کے لئے پولنگ افسران تعینات کردیے۔
مرکزی مفاد کی دلیل
بھارت کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان سے ہر قسم کی اشیا کی درآمد پر پابندی قومی مفاد میں لگائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 1. 9 سال پہلے ڈبل سواری پر چالان ہوا، آج تک پرچہ خارج نہیں کروا سکا، 5 بار ضمانت، بار بار گرفتاری، بیوی سے بھی لڑائی۔۔ عام شہری کا ایک مقدمہ جس نے پورے نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا
پہلگام واقعہ
یاد رہے کہ 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام کے سیاحتی مقام پر فائرنگ کے واقعے میں 26 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے تھے۔ ہندو انتہا پسند مودی سرکار نے بغیر شواہد کے پہلگام واقعے کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا۔
بھارتی سیاسی and سیکیورٹی صورتحال
تاہم متاثرہ خاندانوں، بھارت کی اپوزیشن جماعتوں حتیٰ کہ بھارت کے کئی اتحادیوں اور بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ نے بھی پہلگام واقعے کو بھارت کی سکیورٹی ناکامی قرار دیتے ہوئے اس کا ذمہ دار بی جے پی کی حکومت کو ٹھہرایا ہے۔








