اسرائیل کے شام کے 3 مقامات پر فضائی حملے، وارننگ دے دی
اسرائیل کا فضائی حملہ
دمشق (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیل نے جمعہ کی رات شام کے دارالحکومت دمشق، حما اور درعا کے مضافاتی علاقوں پر فضائی حملے کیے جن میں ایک عام شہری جاں بحق جبکہ چار افراد زخمی ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف کمشنر پاکستان بوائز سکاؤٹس ایسوسی ایشن سینٹر(ر) امان اللہ کنرانی نے حلف اٹھا لیا
حملوں کی تفصیلات
خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق، حملوں کا نشانہ دمشق کے نواحی علاقے، حما اور درعا کے دیہی علاقے بنے۔ دمشق کے قریب ایک شہری جان کی بازی ہار گیا جبکہ حما میں چار افراد زخمی ہوئے۔ حملوں کے نتیجے میں مختلف مقامات پر شدید تباہی کی اطلاعات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جنرل ساحر شمشاد اور روس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف کی ملاقات
اسرائیلی فوج کی تصدیق
اسرائیلی فوج نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نشانہ ایک "فوجی اڈہ، طیارہ شکن توپیں اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کا انفراسٹرکچر" تھا۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں شام میں موجود ایسے عسکری ٹھکانوں کے خلاف ہیں جو ان کے مطابق اسرائیل کے لیے ممکنہ خطرہ بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تائی پے کے میٹرو اسٹیشن پر حملہ
پیغام رسانی کا مقصد
روئٹرز کے مطابق، اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حالیہ حملے شام کے نئے حکام کو ایک واضح پیغام دینے کے لیے کیے گئے ہیں، جنہیں اسرائیل اپنی سرحد کے قریب خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیر جنگ 1948ء، رن آف کچھ جھڑپ اور پاک، بھارت جنگ 1965ء تینوں جنگوں میں پاکستان کا پلڑا بھاری رہا، 71ء میں ایثار کی ضرورت تھی۔
صدارتی محل پر حملہ
جمعے کی صبح بھی اسرائیل نے دمشق میں صدارتی محل کے قریب ایک علاقے کو نشانہ بنایا تھا جو شام کی نئی حکومت کے لیے اسرائیل کی جانب سے اب تک کا سب سے نمایاں انتباہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ بعض حملے شام میں دروز اقلیت کے تحفظ کے لیے بھی کیے گئے ہیں۔
ماضی کے فضائی حملے
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ شام میں بشار الاسد کے دور حکومت کے دوران بھی اسرائیل وقتاً فوقتاً فضائی حملے کرتا رہا ہے، جن کا مقصد ایران کے اثر و رسوخ کو کم کرنا تھا جو کہ شام میں خانہ جنگی کے دوران مضبوط ہوا تھا۔








