کینالز سے متعلق بلاول کا دعویٰ درست ثابت ہوا تو عارف علوی کو شوکاز دیا جائے گا: علی محمد خان
علی محمد خان کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے واضح کیا ہے کہ اگر یہ بات ثابت ہوجائے کہ سابق صدر عارف علوی نے اپنی صدارتی مدت کے دوران متنازع کینالز کی منظوری دی تھی تو ان کو شوکاز نوٹس جاری کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بیرون ملک سے آنیوالوں کو ایک سے زائد موبائل لانے کی اجازت مل گئی
بلاول بھٹو زرداری کا دعویٰ
ڈان نیوز کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دو روز قبل یہ دعویٰ کیا تھا کہ متنازع نہریں بنانے کا فیصلہ نگران حکومت کے دوران لیا گیا تھا اور اس دوران پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عارف علوی صدر کے عہدے پر فائز تھے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب کا سینئر صحافی خالد احمد کے انتقال پر اظہار افسوس
علی محمد خان کا ردعمل
گزشتہ روز، ڈان نیوز کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ اگر بلاول کے الزامات درست ثابت ہوئے تو پارٹی سابق صدر علوی سے اس بارے میں سوال کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کو اپنے دعوے کی کوئی شہادت فراہم کرنی چاہئے، جس کے بعد پارٹی عارف علوی کو شوکاز نوٹس جاری کرے گی اور ان سے وضاحت طلب کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: میری بیٹی فلموں میں نہیں آرہی، کاجول نے واضح کردیا
سوالات اور الزامات
علی محمد خان نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ منصوبہ صدر آصف علی زرداری کی موجودگی میں منظور ہوا تو زرداری نے اسے روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سندھ کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیالکوٹ میں گاڑی سے لڑکی اور لڑکے کی برہنہ لاشیں ملنے کا معمہ حل، افسوسناک انکشاف
بھارت کے ساتھ کشیدگی
بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی پر انہوں نے کہا کہ جنگ کے معاملات میں ہم سب ایک ہیں، جب بات پاکستان کے دفاع کی ہو تو حکومت کے خلاف کوئی اپوزیشن نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت متعدد جماعتوں کا اجلاس بلاتی ہے تو پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو بھی اس میں شامل کیا جانا چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور پولیس کی سندھ کے تاجر کو اغوا کرکے بھتہ وصولی، ویڈیو نے بھانڈا پھوڑ دیا
چولستان منصوبے کا اعلان
واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے 15 فروری کو چولستان کے اس بڑے منصوبے کا افتتاح کیا تھا جس کا مقصد جنوبی پنجاب کی زمینوں کو سیراب کرنا تھا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے جنوبی پنجاب میں 1.2 ملین ایکڑ 'بنجر زمین' کو سیراب کرنے کے لیے 6 نہریں تیار کرنے کے لیے شروع کئے گئے 3.3 ارب ڈالر کے گرین پاکستان انیشی ایٹو (جی پی آئی) کی پیپلز پارٹی سمیت کسانوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز نے سخت مخالفت کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: لیگی رہنما جاوید لطیف نے سپیکر اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں اضافے کی مخالفت کردی۔
حکومت کا فیصلہ
تاہم وزیراعظم شہباز شریف سے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات کے بعد حکومت نے چولستان نہروں کے متنازع منصوبے کو فی الحال جاری نہ رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ فیصلہ کئی ماہ سے جاری احتجاج، سندھ اسمبلی کی متفقہ قرارداد اور بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر خدشات کے بعد کیا گیا۔
مشترکہ مفادات کونسل کا فیصلہ
بعد ازاں 28 اپریل کو وزیراعظم کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) نے دریائے سندھ سے کینالز نکالنے کا منصوبہ مسترد کر دیا تھا۔








