کینالز سے متعلق بلاول کا دعویٰ درست ثابت ہوا تو عارف علوی کو شوکاز دیا جائے گا: علی محمد خان
علی محمد خان کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے واضح کیا ہے کہ اگر یہ بات ثابت ہوجائے کہ سابق صدر عارف علوی نے اپنی صدارتی مدت کے دوران متنازع کینالز کی منظوری دی تھی تو ان کو شوکاز نوٹس جاری کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی:190ملین پاؤنڈ ریفرنس پر سماعت آج اڈیالہ جیل میں ہوگی
بلاول بھٹو زرداری کا دعویٰ
ڈان نیوز کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دو روز قبل یہ دعویٰ کیا تھا کہ متنازع نہریں بنانے کا فیصلہ نگران حکومت کے دوران لیا گیا تھا اور اس دوران پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عارف علوی صدر کے عہدے پر فائز تھے۔
یہ بھی پڑھیں: قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دھماکے کی اطلاع
علی محمد خان کا ردعمل
گزشتہ روز، ڈان نیوز کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ اگر بلاول کے الزامات درست ثابت ہوئے تو پارٹی سابق صدر علوی سے اس بارے میں سوال کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کو اپنے دعوے کی کوئی شہادت فراہم کرنی چاہئے، جس کے بعد پارٹی عارف علوی کو شوکاز نوٹس جاری کرے گی اور ان سے وضاحت طلب کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایک سال کے دوران پروازوں سے پرندے ٹکرانے کے 102 واقعات رپورٹ
سوالات اور الزامات
علی محمد خان نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ منصوبہ صدر آصف علی زرداری کی موجودگی میں منظور ہوا تو زرداری نے اسے روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سندھ کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک نے انٹرنیٹ کی سپیڈ بڑھانے کیلئے بڑا قدم اٹھا لیا
بھارت کے ساتھ کشیدگی
بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی پر انہوں نے کہا کہ جنگ کے معاملات میں ہم سب ایک ہیں، جب بات پاکستان کے دفاع کی ہو تو حکومت کے خلاف کوئی اپوزیشن نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت متعدد جماعتوں کا اجلاس بلاتی ہے تو پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو بھی اس میں شامل کیا جانا چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ میں بلاول بھٹو زرداری کی نااہلی کے لیے درخواست دائر
چولستان منصوبے کا اعلان
واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے 15 فروری کو چولستان کے اس بڑے منصوبے کا افتتاح کیا تھا جس کا مقصد جنوبی پنجاب کی زمینوں کو سیراب کرنا تھا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے جنوبی پنجاب میں 1.2 ملین ایکڑ 'بنجر زمین' کو سیراب کرنے کے لیے 6 نہریں تیار کرنے کے لیے شروع کئے گئے 3.3 ارب ڈالر کے گرین پاکستان انیشی ایٹو (جی پی آئی) کی پیپلز پارٹی سمیت کسانوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز نے سخت مخالفت کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے جاں بحق آصف کی 3ماہ قبل شادی ہونے کا انکشاف
حکومت کا فیصلہ
تاہم وزیراعظم شہباز شریف سے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات کے بعد حکومت نے چولستان نہروں کے متنازع منصوبے کو فی الحال جاری نہ رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ فیصلہ کئی ماہ سے جاری احتجاج، سندھ اسمبلی کی متفقہ قرارداد اور بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر خدشات کے بعد کیا گیا۔
مشترکہ مفادات کونسل کا فیصلہ
بعد ازاں 28 اپریل کو وزیراعظم کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) نے دریائے سندھ سے کینالز نکالنے کا منصوبہ مسترد کر دیا تھا۔








