لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر پاکستانیوں کا احتجاج، کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا عزم
احتجاج کا آغاز
لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے پاکستانیوں نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو کسی بھی جارحیت کی صورت میں خبردار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی کامیابی اور بقا کے لیے 27ویں ترمیم کی ضرورت پڑ گئی ہے، 28ویں ترمیم کی بھی ضرورت پڑی تو وہ بھی آجائے گی، فیصل واوڈا
احتجاج کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق، مظاہرین نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے دوران کہا کہ اگر بھارت نے پاکستان پر حملہ کرنے کی غلطی کی تو انہیں فروری 2019 جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد، خودمختار، ذمہ دار میڈیا ہی وہ طاقت ہے جو حکمرانوں کو جوابدہ بناتا ہے: وزیر اعلیٰ پنجاب
بھارت کے الزام لگانے کا روایتی طریقہ
مسلم لیگ ن برطانیہ کے صدر احسن ڈار نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت کی عادت ہے کہ وہ ہر دہشت گردی کے واقعے کے بعد پاکستان پر الزام لگاتا ہے۔ انہوں نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بغیر ثبوت کے پاکستان پر الزامات لگانے پر بھارت سے جواب طلب کریں۔
یہ بھی پڑھیں: کے پی میں پھل دار اور دیسی درخت لگانے کا فیصلہ
پہلگام کا واقعہ
یاد رہے کہ 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں فائرنگ کے واقعے میں 26 افراد ہلاک اور ایک درجن کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد بھارت نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے پاکستان پر الزام تراشی شروع کر دی اور سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: امید ہے پوپ رابرٹ پرووسٹ دنیا کو رواداری کے رشتے میں جوڑنے کے مشن کو آگے بڑھائیں گے: مریم نواز
پاکستان کا جواب
پاکستان کی جانب سے پہلگام واقعے کی مذمت کی گئی ہے اور وزیراعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہہ دیا کہ اگر بھارت چاہتا ہے کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں تو پاکستان ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہے۔
عسکری قیادت کا پیغام
بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف کارروائی کے اذکار بھی کیے جا رہے ہیں، لیکن پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے واضح کیا ہے کہ ایسی کسی بھی مہم جوئی کا جواب دیا جائے گا جو بھارت کو ہمیشہ یاد رہے گا۔








