ایف بی آر کو ٹیکس ریکوری کیلئے مزید اختیارات مل گئے، آرڈیننس جاری
صدر مملکت کی منظوری
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) صدر مملکت آصف علی زرداری کی منظوری سے ٹیکس لا ترمیمی آرڈیننس 2025 جاری کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں مون سون کا سسٹم کمزور، اب شہر میں بارشیں کب متوقع ہیں؟
ترمیمی آرڈیننس کی تفصیلات
نجی ٹی وی سما نیوز رپورٹ کے مطابق آرڈیننس کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں تین ترامیم کی گئی ہیں، اسی طرح آرڈیننس کے تحت فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 میں بھی متعدد ترامیم کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی اداکار عمر عالم نے دوران پرواز جہاز میں لڑکی کو شادی کی پیشکش کر دی، ویڈیو وائرل
ایف بی آر کو دیے گئے اختیارات
ایف بی آر کو ٹیکس ریکوری کے لیے مزید اختیارات دیے گئے ہیں، آرڈیننس کے مطابق پہلی اپیل کے خاتمے پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) قابل ادا ٹیکس کی فوری ریکوری کر سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: چھوٹے کاروباری لوگوں کو بجٹ میں ٹیکس چھوٹ ملے گی: علی پرویز ملک
اکاؤنٹس کا فوری منجمد ہونا
آرڈیننس کے مطابق ٹیکس ریکوری کے لیے اکاؤنٹ فوری منجمد کرنے کا اختیار ایف بی آر کو دے دیا گیا، اسی طرح ایف بی آر کو کاروباری مقامات پر افسر تعینات کرنے کا بھی اختیار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی نوجوان کی برطانیہ سے ڈی پورٹیشن روک دی گئی کیونکہ وہ اسکول کا سٹار طالب علم تھا
پیداوار اور سٹاک کی نگرانی
آرڈیننس کے تحت پیداوار اور سٹاک کی نگرانی کا بھی ایف بی آر کو اختیار دے دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: فتنہ خان کی سیاست اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے، اڈیالہ کا قیدی’’ بانی متحدہ پارٹ 2 ‘‘بن چکا ، عظمیٰ بخاری
حکومتی افسران کے اختیارات
آرڈیننس کے مطابق کاروباری مقامات پر ایف بی آر کے افسران تعینات ہوسکیں گے، ترامیم کے تحت ایف بی آر قابل ادا ٹیکس کو فوری ریکور کرسکیں گے، فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 میں وفاقی اور صوبائی حکومت کے تمام افسران کے اختیارات بڑھ گئے۔
غیر قانونی سامان کی ضبطگی
آرڈیننس کے تحت حکومتی افسران کو کسی بھی بزنس، جگہ، فیکٹری پر غیر قانونی سامان کو قبضے میں لینے کا اختیار مل گیا۔








