ایف بی آر کو ٹیکس ریکوری کیلئے مزید اختیارات مل گئے، آرڈیننس جاری
صدر مملکت کی منظوری
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) صدر مملکت آصف علی زرداری کی منظوری سے ٹیکس لا ترمیمی آرڈیننس 2025 جاری کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: برائٹ کا مقدمہ سنا جائے گا تو بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہوجائے گی، بیرسٹر گوہر کو امید
ترمیمی آرڈیننس کی تفصیلات
نجی ٹی وی سما نیوز رپورٹ کے مطابق آرڈیننس کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں تین ترامیم کی گئی ہیں، اسی طرح آرڈیننس کے تحت فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 میں بھی متعدد ترامیم کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جامعۂ پنجاب کا 135ویں سالانہ کانووکیشن، الیزے شبیر خان کے لیے تین گولڈ میڈلز کا اعزاز
ایف بی آر کو دیے گئے اختیارات
ایف بی آر کو ٹیکس ریکوری کے لیے مزید اختیارات دیے گئے ہیں، آرڈیننس کے مطابق پہلی اپیل کے خاتمے پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) قابل ادا ٹیکس کی فوری ریکوری کر سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لینے کی خبروں پر وزیر داخلہ سندھ کا بیان آ گیا
اکاؤنٹس کا فوری منجمد ہونا
آرڈیننس کے مطابق ٹیکس ریکوری کے لیے اکاؤنٹ فوری منجمد کرنے کا اختیار ایف بی آر کو دے دیا گیا، اسی طرح ایف بی آر کو کاروباری مقامات پر افسر تعینات کرنے کا بھی اختیار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رواں سال کا سب سے بڑا اور روشن ’سپر مون‘ آج نمودار ہوگا
پیداوار اور سٹاک کی نگرانی
آرڈیننس کے تحت پیداوار اور سٹاک کی نگرانی کا بھی ایف بی آر کو اختیار دے دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاراچنار سے پشاور جانیوالی مسافر گاڑیوں پر فائرنگ ،خاتون سمیت 11افراد جاں بحق
حکومتی افسران کے اختیارات
آرڈیننس کے مطابق کاروباری مقامات پر ایف بی آر کے افسران تعینات ہوسکیں گے، ترامیم کے تحت ایف بی آر قابل ادا ٹیکس کو فوری ریکور کرسکیں گے، فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 میں وفاقی اور صوبائی حکومت کے تمام افسران کے اختیارات بڑھ گئے۔
غیر قانونی سامان کی ضبطگی
آرڈیننس کے تحت حکومتی افسران کو کسی بھی بزنس، جگہ، فیکٹری پر غیر قانونی سامان کو قبضے میں لینے کا اختیار مل گیا۔








