مودی سرکار کا صحافت پر کریک ڈاؤن، بھارت صحافتی آزادی میں 151 ویں نمبر پر گر گیا
مودی حکومت کی صحافت پر سنسرشپ
سرینگر (ڈیلی پاکستان آن لائن) پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد مودی سرکار کا صحافت پر سنسرشپ اور کریک ڈاون جاری ہے۔ رپورٹرز ودآوٹ بارڈرز کے مطابق بھارت صحافتی آزادی میں 151 ویں نمبر پر گر گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ، گورنر بلوچستان کی رہائشگاہ کے باہر فائرنگ، 5 افراد زخمی
صحافتی دباؤ اور جھوٹے مقدمات
رپورٹرز وِدآوٹ بارڈرز کی رپورٹ کے مطابق، حکومت میں آنے کے بعد سے ہی مودی نے صحافت کی آوازوں کو دبانا چاہا ہے۔ کشمیر پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو جھوٹے مقدموں میں الجھا کر رکھا جاتا ہے۔ مودی سرکار پر تنقید کرنے والی آوازوں کو یو اے پی اے جیسے سخت قوانین کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب اور قطر کا شام کے ذمہ ورلڈ بینک کا قرض ادا کرنے کا اعلان
میڈیا کے اداروں پر چھاپے
مودی سرکار نے دی وائر اور بی بی سی جیسے اداروں پر چھاپے بھی مار چکی ہے۔ ایمنسٹی اور ہیومن رائٹس واچ نے بھی مودی کی میڈیا پالیسیوں پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ مودی کی بھارت میں میڈیا کی آزادی صرف ایک جھوٹا دعویٰ بن کر رہ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت منشیات کی سمگلنگ، دہشتگردوں کو پروموٹ کر رہی ہے: عطا تارڑ
کشمیری صحافیوں کی حالت
دریں اثنا، آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد کشمیری صحافی مسلسل ریاستی ظلم کی لپیٹ میں ہیں۔ یوم آزادی صحافت پر مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت کی جانب سے صحافیوں کی آزادی کو کچلنے والی ایک چونکا دینے والی رپورٹ شائع ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیلیٹی سٹورز پر چینی 13روپے فی کلو سستی
پیشہ ورانہ مشکلات
رپورٹ کے مطابق، مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کشمیری صحافیوں کو سچ لکھنے پر جیل، تشدد اور قتل جیسے مظالم کا سامنا ہے۔ 1989 سے اب تک 20 سے زائد کشمیری صحافی شہید ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا پر بھارتی جھوٹے بیانیے کو بدترین شکست، “گودی میڈیا” کی سازش بے نقاب، پاکستانی میڈیا نے منہ توڑ جواب دیدیا، مودی تنقید کی زد میں
خطرناک صورتحال میں صحافی
صحافیوں کی عالمی تنظیم برائے آزادیِ صحافت، آر ایس ایف کے مطابق، مقبوضہ کشمیر صحافیوں کے لئے دنیا کے خطرناک ترین علاقوں میں شامل ہے۔ 2019 کے بعد بھارت میں میڈیا آزادی بدترین زوال کا شکار ہے اور بی جے پی حکومت میڈیا کو فوج کا آلہ کار بنانے میں مصروف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محمد رضوان نے سینٹرل کنٹریکٹ پر دستخط کرنے سے انکار کرتے ہوئے پی سی بی کے سامنے مطالبات رکھ دیے
دھمکیاں اور حراست
کشمیر پریس آرگنائزیشن کے مطابق، بھارتی افواج اور ایجنسیوں کی جانب سے کشمیری صحافیوں کو روزانہ دھمکیاں اور حراست کا سامنا ہے۔ بھارتی اقدامات کا مقصد صرف سچ کو چھپانا ہے۔
انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، بھارت کشمیری صحافیوں کے خلاف ریاستی دہشتگردی کا مرتکب ہے، اور بھارتی حکومت کو کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جوابدہ ہونا چاہئے۔








