راولپنڈی میں ایک بار پھر واٹر ایمرجنسی نافذ
راولپنڈی میں واٹر ایمرجنسی
راولپنڈی میں ایک بار پھر واٹر ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ واسا نے رواں سال فروری میں بھی ڈراوٹ ایمرجنسی نافذ کی تھی۔ خانپور ڈیم میں صرف ایک ماہ کا پانی کا ذخیرہ رہ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارے پاس آخری راستہ بھی ہے، اس پر غور کیا جا رہا ہے، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی
پانی کی طلب اور رسد کی صورتحال
نجی ٹی وی آج نیوز نے ایم ڈی واسا محمد سلیم اشرف کے حوالے سے بتایا کہ راول ڈیم میں پانی کا ذخیرہ صرف 3 ماہ کا رہ گیا ہے۔ پانی کی طلب اور رسد ان دنوں شدید متاثر ہے، کم بارشوں کے باعث زیر زمین پانی کی سطح میں کوئی بہتری نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب نے پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر کے ڈیپازٹ کی مدت میں ایک بار پھر توسیع کر دی
زیر زمین پانی کی سطح میں کمی
ایم ڈی واسا کا کہنا ہے کہ زیر زمین پانی کی سطح ساڑھے 600 فٹ تک چلی گئی ہے۔ بارشیں نہ ہونے کی صورت میں جڑواں شہروں میں پانی کا مسئلہ سنگین ہوسکتا ہے۔ اس وقت راولپنڈی میں پانی کی طلب 5 کروڑ گیلن یومیہ سے زائد ہے جبکہ راولپنڈی کو دستیاب پانی 3 کروڑ گیلن یومیہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی 20 ورلڈکپ: پاک بھارت میچ سے متعلق فیصلہ 12 فروری کو ہونے کا امکان
پانی کی کمی سے نمٹنے کے اقدامات
ایم ڈی واسا نے کہا کہ پانی کی کمی کو ٹیوب ویلز اور دیگر ذرائع سے پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافہ اور کمرشل سرگرمیوں سے پانی کے ذخائر کم ہورہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایک بڑے سیاسی گھرانے کی کسی شخصیت کے کرپٹو میں 100 ملین ڈالر ڈوبنے کی افواہ پر مرزا شہزاد اکبر کا ردعمل بھی آگیا
پانی کے غیر ضروری استعمال پر پابندی
ایم ڈی واسا کا کہنا ہے کہ کم بارشوں کے باعث دستیاب پانی کی تقسیم مشکل ہوگئی ہے، لہذا پانی کے غیر ضروری استعمال پر اب مقدمات کا اندراج کیا جائے گا۔
شہریوں سے اپیل
ایم ڈی واسا نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پانی کی بچت کریں اور واسا کے ساتھ تعاون کریں۔








