ٹرمپ نے مشیر قومی سلامتی مائیک والٹز کو عہدے سے کیوں ہٹایا؟ آخر کار وجہ سامنے آگئی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا فیصلہ
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مائیک والٹز کو قومی سلامتی کے مشیر کے عہدے سے ہٹا کر انہیں اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نامزد کر دیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق والٹز کی برطرفی کی بڑی وجوہات میں سگنل میسجنگ ایپ پر ایک خفیہ گروپ چیٹ کا سکینڈل اور ایران کے خلاف ان کا جارحانہ موقف بتایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فی تولہ سونے کی قیمت سیکڑوں روپے گر گئی!
خفیہ گروپ چیٹ کا سکینڈل
والٹز پر تنقید اس وقت ہوئی جب انہوں نے نائب صدر جے ڈی وینس اور سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگسٹھ کے ساتھ مل کر یمن پر فوجی حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے ایک خفیہ گروپ بنایا۔ یہ گفتگو اس وقت منظر عام پر آ گئی جب اٹلانٹک میگزین کے ایڈیٹر جیفری گولڈبرگ کو غلطی سے گروپ میں شامل کر لیا گیا۔ بعد میں والٹز نے اس غلطی کی ذمہ داری قبول کی۔
یہ بھی پڑھیں: نشے کی لت میں پڑنے والے ظالم باپ نے 6ماہ کے بیٹے کا گلہ کاٹ دیا
ایران کے خلاف جارحانہ موقف
اس کے علاوہ والٹز نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ایران پر ممکنہ فوجی حملوں کے بارے میں بات چیت کی، جس سے ٹرمپ ناراض ہو گئے۔ والٹز کا جارحانہ خارجہ پالیسی کا رویہ اور وائٹ ہاؤس چیف آف سٹاف سوسی وائلز کے ساتھ تنازعات بھی ان کی برطرفی کی وجوہات میں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایک اور شہر میں شدید ژالہ باری، گاڑیوں کے شیشوں کے ساتھ ساتھ سولر پینل بھی ٹوٹ گئے
نئے قومی سلامتی کے مشیر کا تعینات
ٹرمپ نے والٹز کی جگہ سیکریٹری آف سٹیٹ (وزیر خارجہ) مارکو روبیو کو قومی سلامتی کے مشیر کے طور پر تعینات کیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب 1970 کی دہائی کے بعد کسی سیکریٹری آف سٹیٹ کو یہ اضافی ذمہ داری دی گئی ہے۔
سینیٹ کی توثیق اور دیگر چیلنجز
والٹز کو اب سینیٹ کی توثیق کے بعد اقوام متحدہ میں سفیر بننا ہوگا لیکن ڈیموکریٹس کی مخالفت اور سگنل سکینڈل ان کے لیے رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ ان کے ڈپٹی الیکس وونگ کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے。








