وفات پانے والے لاکھوں شہریوں کے شناختی کارڈ کے غلط استعمال کا خدشہ
وفات پاجانے والوں کے شناختی کارڈز کا خطرہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفات پاجانے والے لاکھوں شہریوں کے شناختی کارڈز معطل نہ ہونے کے باعث غلط استعمال کا خدشہ ہے۔ نادرا حکام کہتے ہیں لواحقین کی یہ قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مرحومین کے شناختی کارڈ کینسل کرائیں۔ ذرائع کا کہنا ہے یاد دہانی کے باوجود شناختی کارڈ معطل نہ کرانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: سابق گورنر زبیر عمر کو پی ٹی آئی میں شمولیت کیلئے گرین سگنل مل گیا
معلومات کی حقیقت
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق انتقال کرجانے والے شہریوں کے شناختی کارڈز بدستور فعال ہیں، 70 لاکھ سے زیادہ پاکستانی مرحومین سرکاری ریکارڈ میں زندہ ہیں۔ یہ انکشاف نادرا کی جانب سے یونین کونسلز کے ریکارڈ کا جائزہ لینے پر سامنے آیا۔
یہ بھی پڑھیں: نجی حج سکیم بحران، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے وزیر اعظم کو خط لکھ ڈالا
نادرا کا بیان
ترجمان نادرا شباہت علی خان کا کہنا ہے کہ 70 لاکھ افراد تو وہ ہیں جن کی یونین کونسل میں وفات کا اندراج ہو چکا ہے مگر پسماندگان نے نادرا سے ان کے شناختی کارڈ کینسل نہیں کروائے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ دہشتگرد ہیں “وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے مظاہرین کے پاس موجود جدید اسلحے کی فوٹیج دکھا دی
قانونی ذمہ داری
نادرا حکام کے مطابق فوت شدگان کے رشتہ دار ڈیتھ سرٹیفکیٹ تو بنوا لیتے ہیں، لیکن اکثر اپنے مرحوم پیاروں کے شناختی کارڈ منسوخ کرانے کی قانونی ذمہ داری نہیں نبھاتے۔ بظاہر یہ چھوٹی سی لاپرواہی سیکیورٹی سمیت کئی بڑے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ آج، امتحانی مراکز کے اطراف میں دفعہ 144 نافذ
نقصانات کا امکان
ترجمان نادرا کے مطابق لوگوں کو شاید اس کی نقصانات کا اندازہ نہیں ہے کہ اگر وہ مرنے والے شخص کا شناختی کارڈ کینسل نہیں کرواتے تو اس کے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں۔ آپ کی شناختی دستاویز کینسل نہیں ہوئی تو آپ خود سوچ لیجئے کہ اس طرح کے استعمال ہو سکتا ہے۔
نادرا کا منصوبہ
ذرائع کے مطابق نادرا نے دنیا سے رخصت ہو جانے والوں کے شناختی کارڈ بند کرنے کا پلان تیار کر لیا۔ پہلے مرحلے میں متوفین کے لواحقین کو ایس ایم ایس کے ذریعے آگاہ کیا جائے گا۔ پھر بھی مرحومین کے شناختی کارڈ منسوخ نہ کرائے گئے تو قانونی ایکشن ہوگا۔








