وفات پانے والے لاکھوں شہریوں کے شناختی کارڈ کے غلط استعمال کا خدشہ
وفات پاجانے والوں کے شناختی کارڈز کا خطرہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفات پاجانے والے لاکھوں شہریوں کے شناختی کارڈز معطل نہ ہونے کے باعث غلط استعمال کا خدشہ ہے۔ نادرا حکام کہتے ہیں لواحقین کی یہ قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مرحومین کے شناختی کارڈ کینسل کرائیں۔ ذرائع کا کہنا ہے یاد دہانی کے باوجود شناختی کارڈ معطل نہ کرانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ آنے والوں کے لیے نئی وارننگ جاری، کن کا ویزا اور گرین کارڈ منسوخ ہوگا۔۔؟تفصیلات جانیے
معلومات کی حقیقت
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق انتقال کرجانے والے شہریوں کے شناختی کارڈز بدستور فعال ہیں، 70 لاکھ سے زیادہ پاکستانی مرحومین سرکاری ریکارڈ میں زندہ ہیں۔ یہ انکشاف نادرا کی جانب سے یونین کونسلز کے ریکارڈ کا جائزہ لینے پر سامنے آیا۔
یہ بھی پڑھیں: قطر میں عید الاضحیٰ پر 5 چھٹیوں کا اعلان
نادرا کا بیان
ترجمان نادرا شباہت علی خان کا کہنا ہے کہ 70 لاکھ افراد تو وہ ہیں جن کی یونین کونسل میں وفات کا اندراج ہو چکا ہے مگر پسماندگان نے نادرا سے ان کے شناختی کارڈ کینسل نہیں کروائے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں جشن عید میلاد النبیﷺ پر پینٹنگز کی نمائش، 100 سے زائد فن پارے توجہ کا مرکز بن گئے
قانونی ذمہ داری
نادرا حکام کے مطابق فوت شدگان کے رشتہ دار ڈیتھ سرٹیفکیٹ تو بنوا لیتے ہیں، لیکن اکثر اپنے مرحوم پیاروں کے شناختی کارڈ منسوخ کرانے کی قانونی ذمہ داری نہیں نبھاتے۔ بظاہر یہ چھوٹی سی لاپرواہی سیکیورٹی سمیت کئی بڑے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سالگرہ منانے کے لیے جھیل میں جانے والوں کی کشتی الٹ گئی، 8 افراد ہلاک
نقصانات کا امکان
ترجمان نادرا کے مطابق لوگوں کو شاید اس کی نقصانات کا اندازہ نہیں ہے کہ اگر وہ مرنے والے شخص کا شناختی کارڈ کینسل نہیں کرواتے تو اس کے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں۔ آپ کی شناختی دستاویز کینسل نہیں ہوئی تو آپ خود سوچ لیجئے کہ اس طرح کے استعمال ہو سکتا ہے۔
نادرا کا منصوبہ
ذرائع کے مطابق نادرا نے دنیا سے رخصت ہو جانے والوں کے شناختی کارڈ بند کرنے کا پلان تیار کر لیا۔ پہلے مرحلے میں متوفین کے لواحقین کو ایس ایم ایس کے ذریعے آگاہ کیا جائے گا۔ پھر بھی مرحومین کے شناختی کارڈ منسوخ نہ کرائے گئے تو قانونی ایکشن ہوگا۔








