ایران نے اسرائیلی ایئرپورٹ پر حملے میں حوثیوں کی حمایت کی تردید کر دی
ایران کی تردید
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے اسرائیل کے مرکزی بین الاقوامی ایئرپورٹ پر کیے گئے میزائل حملے میں کسی بھی قسم کی حمایت کی تردید کر دی ہے۔ حوثیوں نے اتوار کے روز بن گوریان ایئرپورٹ پر میزائل حملے کا دعویٰ کیا تھا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ "فلسطینی عوام کی حمایت میں یمنی اقدام ایک آزادانہ فیصلہ تھا جو ان کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر کیا گیا۔"
یہ بھی پڑھیں: اختیارات کے غلط استعمال کا الزام، جوڈیشل مجسٹریٹ قمبر سید کرم علی شاہ معطل
حملے کی تفصیلات
اے ایف پی کے مطابق اتوار کے روز یمن سے فائر کیا گیا ایک میزائل اسرائیل کے بن گوریان ایئرپورٹ کے احاطے میں گرا جس سے زمین میں ایک گہرا گڑھا پڑ گیا اور چھ افراد زخمی ہوئے۔ واقعے کے بعد کچھ وقت کے لیے پروازیں معطل کر دی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی کی بڑی کاوش، پاکستان سعودی عرب کو کرکٹ سکھائے گا
حوثیوں کی ذمہ داری
ایران نواز حوثیوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے "ہائیپر سونک بیلسٹک میزائل" فائر کیا ہے۔ انہوں نے مزید اسرائیلی ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری ملازمین کی طرح خودمختار اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں بھی 5 سے 30 فیصد تک کٹوتی کا فیصلہ
اسرائیلی وزیر اعظم کا ردعمل
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے اس حملے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ ٹیلیگرام پر جاری ایک ویڈیو میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے ماضی میں بھی حوثیوں کے خلاف کارروائی کی ہے اور آئندہ بھی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: میں نے ایران کو 60 دن کی وارننگ دی تھی، آج 61 واں دن ہے، صدر ٹرمپ نے اسرائیلی حملوں کو “انتہائی کامیاب” قرار دے دیا۔
ایران کا انتباہ
انہوں نے مزید کہا "یہ ایک دھماکے سے نہیں ہوگا، بلکہ کئی دھماکے ہوں گے"، تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ بعد ازاں ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل ایران کو بھی اپنے منتخب کردہ وقت اور جگہ پر جواب دے گا۔
ایران کی حفاظتی پوزیشن
ان دھمکیوں کے جواب میں ایران نے بھی پیر کو خبردار کیا کہ اگر اس کی سرزمین پر حملہ ہوا تو وہ جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ "ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔"








