بھارت کے پاس دریاؤں کا پانی روکنے کی کوئی سہولت موجود نہیں تو پاکستانی دریاؤں کا پانی کہاں گیا؟ ماہرین نے سوالات اٹھادیے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی جنگ
اسلام آباد (ویب ڈیسک) بھارت نے یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کرکے پاکستان پر آبی جنگ مسلط کر دی اور پاکستان آنے والے دریائے چناب کے پانی کو بڑے پیمانے پر روک کر اسے خشک کرنا شروع کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کامسیٹس یونیورسٹی لاہور کا 45 واں کانووکیشن، 1689 گریجویٹس نے تعلیمی کامیابیوں کا جشن منایا
بھارتی منصوبے اور ان کے اثرات
نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق اس کے علاوہ بھارت نے دریائے جہلم پر کشن گنگا منصوبے کے ذریعے پانی کا اخراج کم کرنے کی تیاری بھی شروع کردی ہے۔ سابق پاکستان انڈس واٹر کمشنر کا کہنا ہے کہ دونوں اقدامات نا صرف سندھ طاس معاہدے کی روح کے منافی ہیں بلکہ پاکستان کی زرعی معیشت، آبی تحفظ اور قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بھی بن چکے ہیں۔ صورت حال سنگین ہورہی ہے اور صرف 2 دنوں میں دریائے چناب میں پانی کی آمد 40 ہزار 900 کیوسک سے کم ہو کر صرف 5 ہزار 300 کیوسک رہ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کی کوششیں تیز، روسی ٹیم نے اخراجات کا تخمینہ تیار کرلیا
بھارت کے مختلف منصوبے
بھارت چناب بیسن میں پکل دل (1,000 میگاواٹ)، کیرو (624 میگاواٹ)، کوار (540 میگاواٹ) سمیت دیگر منصوبے لگا رہا ہے جو 2027-28 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ کی ڈی ایس پی لیگل کو شیرافضل مروت کیخلاف سیل ایف آئی آر کی نقول جمع کرانے کی ہدایت
ماہرین کے خدشات
ماہرین کہتے ہیں بھارتی اقدامات ’واٹر اسٹرائیک‘ ہیں جو سرجیکل سٹرائیک سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت کے پاس دریاؤں کا پانی روکنے کی کوئی سہولت موجود نہیں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستانی دریاؤں کا پانی آخرکہاں گیا؟ بھارت نے یہ پانی روک کر کہیں اسے اپنے کسانوں کے لیے استعمال کرنا تو شروع نہیں کردیا۔
پاکستان کے خدشات کی شدت
بھارت کی طرف سے گزشتہ 3 سالوں کے دوران دونوں ملکوں کے انڈس واٹر کمشنرز کا اجلاس نہ ہونے دینا اور پاکستان کو اس عرصے کے دوران بھارت جا کر بھارتی منصوبوں کا معائنہ کرنے کا موقع نہ ملنا، پاکستان کے خدشات کو مزید تقویت دے رہا ہے۔








