عافیہ صدیقی کے ساتھ امریکی جیل میں نہایت ناروا سلوک، وکیل کلائیو اسمتھ کا اسلام آباد ہائی کورٹ میں بیان
اسلام آباد ہائیکورٹ میں عافیہ صدیقی کیس کی سماعت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ میں عافیہ صدیقی کیس میں وکیل کلائیو اسمتھ نے کہا کہ عافیہ صدیقی کے ساتھ امریکی جیل میں نہایت ناروا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران دور حکومت میں مجھ پر آرٹیکل 6 کا مقدمہ بنا کر گرفتار کیا گیا ، جیل میں آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی اور علاج کی سہولت سے محروم رکھا، یہ دنیا مکافات عمل ہے،مفتی کفایت اللہ
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت عافیہ صدیقی کے امریکا میں وکیل کلائیو اسمتھ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے اور کہا کہ عافیہ صدیقی کے ساتھ امریکی جیل میں نہایت ناروا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مسائل بڑھتے جا رہے ہیں ، معاشی تھنک ٹینک نے انتظامی ڈھانچے کی اصلاحات کیلئے نئے صوبوں کے 3منظر نامے تجویز کردیئے
وفاقی حکومت کی درخواست
وکیل عمران شفیق نے کہا کہ وفاقی حکومت کی متفرق درخواست ہے کہ پٹیشن کا مقصد پورا ہو چکا نمٹائی جائے، ہم نے درخواست میں ترمیم کی اجازت کیلئے متفرق درخواست دی ہے، 26ویں ترمیم میں یہ لکھا گیا کہ استدعا کے مطابق ریلیف دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: عیدالاضحیٰ پر 10 دن کی چھٹیوں کا اعلان
وکیل فوزیہ صدیقی کا مؤقف
وکیل فوزیہ صدیقی نے مؤقف اپنایا کہ ہماری درخواست میں ایک سے زائد استدعا کی گئی ہے اور مقصد ابھی پورا نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: کالا سانپ افتخار چوہدری والی عدلیہ ہے، کچھ ترامیم سو فی صد اتفاق رائے سے منظور کی گئی ہیں: بلاول بھٹو زرداری
ججز کے تبصرے
جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیے کہ آپ ان گراؤنڈز کا حوالہ دے کر نئی درخواست بھی تو دائر کر سکتے ہیں، عمران شفیق ایڈوکیٹ نے کہا کہ ہم نے نئی درخواست دی تو وہ کسی اور بنچ میں بھیج دی جائے گی، یہ کیس اس عدالت سے نکالنے کے مقصد سے یہ متفرق درخواست دائر کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کیلئے 2 چھٹیوں کا اعلان
عدالت کا فیصلہ
جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیے کہ دیکھ لیں کہ وکلاء اب اس سوچ میں بھی پڑ گئے ہیں پہلے یہ نہیں ہوتا تھا، وکیل نے کہا کہ یہ عدالت متفرق درخواست منظور کرنے کا عبوری آرڈر کرتی ہے تو وہ سپریم کورٹ میں چیلنج ہو سکتا ہے۔
جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیے کہ کچھ اور کیسز میں عبوری آرڈرز کے خلاف انٹراکورٹ اپیلیں سنی گئیں اور اسٹے بھی دیا گیا، وکیل نے کہا کہ ہماری درخواست میں یہ استدعا بھی ہے کہ عدالت کوئی ریلیف مناسب سمجھے تو وہ بھی دے سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال کی ایمرجنسی اور دیگر وارڈز کا دورہ، سہولتوں کے بارے میں دریافت کیا
عدالتی معاون کا بیان
عدالتی معاون زینب جنجوعہ نے کہا کہ ہائیکورٹ کے پاس درخواست کے مندرجات و صورتحال کے مطابق ریلیف دینے کا اختیار موجود ہے، جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیے کہ جس نے بھی آرٹیکل 199 کی شق 1 اے ڈرافٹ کی اُس نے سب مکس کر دیا۔
مکمل سماعت کا فیصلہ
عدالت نے کہا کہ عدالتوں کے مکمل سوموٹو سے متعلق وہ شق شامل کی جانی تھی، جیسے اخباری تراشے پر سوموٹو لیا جاتا ہے، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیے کہ اِس شق کو پوری Jurice Prudence کے ساتھ مکس کر دیا، عدالتیں جو ریلیف دے سکتی تھیں اُسکو بھی گڈ مڈ کر دیا گیا۔ عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔








