جو کرنا ہے کر دیں: جج کے سوال پر ملزم ارمغان کا جواب
کراچی میں غیرقانونی کال سینٹر کیس
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں غیرقانونی کال سینٹر چلانے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: نور مقدم قتل کیس؛ پراسیکیوشن کا سارا کیس سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈی وی آر پر ہے، وکیل سلمان صفدر
ملزم کی پیشی
ایف آئی اے کی جانب سے گرفتار ملزم ارمغان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں تفتیشی افسر امیر علی کھوسو نے عدالت سے ملزم کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔
یہ بھی پڑھیں: 100 ویں سالگرہ منانے والے مہاتیر محمد ’تھکن‘ کی وجہ سے ہسپتال میں داخل
تفتیشی افسر کا موقف
تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم نے دورانِ تفتیش اپنے کئی شریک ملزموں کے بارے میں انکشافات کیے ہیں جن کی تعداد پانچ سے زائد ہے۔ افسر کے مطابق ملزم سے ڈیجیٹل آئی ڈیز کے ایڈریسز بھی حاصل کیے گئے ہیں، جب کہ اس نے اپنے ذاتی اکاؤنٹس سے متعلق بھی معلومات فراہم کی ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ مزید تفتیش کے لیے ملزم کا جسمانی ریمانڈ ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیوٹی پارلر میں کام کرنیوالی “محبوبہ” سے ملنے کے لیے آیا نوجوان رکشہ ڈرائیور سمیت قتل، ساری کہانی سامنے آگئی
عدالت کا فیصلہ
عدالت کی جانب سے جب تفتیشی افسر سے پوچھا گیا کہ ریمانڈ کیوں درکار ہے، تو انہوں نے ان ہی نکات کو دہرایا۔ تاہم عدالت نے ریمانڈ دینے سے انکار کرتے ہوئے ملزم ارمغان کو جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کا 811 ارب روپے کا تعلیمی بجٹ طلباء کی زندگی میں بہتری لائے گا، وزیر تعلیم
جوڈیشل مجسٹریٹ کا ریمارکس
سماعت کے دوران جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے ملزم سے براہِ راست مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’پہلے تو بہت بولتے تھے، آج کیا ہوا؟‘ جس پر ملزم نے سرد لہجے میں جواب دیا: ’آپ نے جو کرنا ہے کر دیں۔‘
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں آسٹریلوی شہریت رکھنے والے اوورسیز پاکستانی کو تشدد کا نشانہ بنانے والے پولیس اہلکار کو معطل کر کے گرفتار کرلیا گیا۔
تشدد کے الزامات
عدالت نے ملزم سے دریافت کیا کہ کیا ایف آئی اے کی جانب سے کوئی تشدد کیا گیا؟ تاہم ملزم بار بار پوچھنے پر بھی خاموش رہا، جس پر خاتون وکیل شازیہ توقیر ایڈووکیٹ نے اعتراض اٹھایا کہ یہ توہینِ عدالت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے سوالات کا جواب دینا لازم ہے، چاہے وہ ہاں میں ہو یا نہ میں۔
سماعت کا اختتام
جوڈیشل مجسٹریٹ نے ریمارکس دیے کہ ’آپ اس ملزم کو نہیں جانتیں، اس پر کیسز کا بنڈل موجود ہے۔ یہ توہینِ عدالت ہے کہ جج سوال کرے اور ملزم خاموش رہے۔‘ عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزم کا جسمانی ریمانڈ مسترد کرتے ہوئے اسے جیل منتقل کرنے کا حکم دیا، اور سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔








