ٹوکن کی موجودگی کا مطلب ہے لائن پر اب اکیلی گاڑی کی اجارہ داری ہو گی، پاکستان میں ان اسٹیشنوں پر جہاں سنگل لائن ہے یہ نظام ابھی تک جاری ہے
مصنف کا تعارف
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 118
یہ بھی پڑھیں: توصیف احمد، عمران احمد اور عمیر چیمہ کی پروموشن پر پروقار تقریب، کمپنی افسران، سینئرز اور دوستوں کی شرکت
ریلوے کے محکمے میں ٹوکن کی اہمیت
اس سے اندازہ ہوگیا ہوگا کہ ریلوے کے محکمے میں اس ٹوکن کی کیا اہمیت ہوگی۔ اس مشین میں ایک ہی ٹوکن کی موجودگی کا مطلب ہے کہ اس لائن پر اب اکیلی گاڑی کی ہی اجارہ داری ہوگی۔ نئے برقی اور کمپیوٹر نظام کی بدولت یہ صدیوں پرانا فرسودہ نظام بھی اب متروک ہوتا جا رہا ہے اور اس کی جگہ جدید مواصلاتی اور کمپیوٹر کا نظام متعارف کروایا جا رہا ہے۔ جس کی بدولت ڈرائیور کو خودکار طریقے سے آگے بڑھنے کی اجازت ملتی جاتی ہے اور وہ فون یا واکی ٹاکی پر بھی کنٹرول روم سے رابطے میں رہتا ہے اور وائی فائی کے ذریعے آگے جاتی یا پیچھے آتی ہوئی گاڑی کی رفتار اور فاصلے پر بھی نظر رکھ سکتا ہے۔ تاہم پاکستان میں ابھی ان اسٹیشنوں پر جہاں سنگل لائن ہے یہ نظام ابھی تک جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سُندس فاؤنڈیشن میں کرسمس کی مناسبت سے خصوصی تقریب کا انعقاد، وزیر اقلیتی امور سردار رمیشن انگھ اروڑہ نے کیک کاٹا
لیول کراسنگ کی تفصیلات
عام طور پر ریلوے اسٹیشن کے قریب یا بڑے شہر کے مضافات میں کچھ مقامات پر سڑک پر چلتی پھرتی عام ٹریفک کو ریل کی پٹریوں کے اوپر سے گزارنے کے لیے خصوصی تعمیرات اور حفاظتی اقدامات کیے جاتے ہیں۔ عام حالات میں تو ریل کی پٹری سطح زمین سے کوئی فٹ بھر بلند ہوتی ہے اور اس کی اس خصوصی بناوٹ کی وجہ سے اس پر سے موٹر کاروں، بسوں، موٹرسائیکلوں یا دوسری گاڑیوں کا گزرنا محال ہے۔ اس لیے سڑک پر چلتی ٹریفک کو پٹری کے اوپر سے گزارنے کے لیے محکمہ ریلوے خصوصی انتظام کرتا ہے۔ سب سے پہلے تو ریل کی پٹری پر اس طریقے سے کنکریٹ یا تارکول کی تہہ بچھائی جاتی ہے کہ گاڑی کا راستہ بھی بحال رہے اور جب وہاں گاڑی نہ چل رہی ہو تو عام ٹریفک بھی اس پٹری کو با آسانی عبور کر جائے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی اداکار دھرمیندر 89 سال کی عمر میں چل بسے
فوری حفاظتی اقدامات
اس راستے کو پٹری کے ساتھ ہموار یا لیول رکھا جاتا ہے۔ پٹری کے اوپر سڑک بنانے کے بعد سب سے پہلے اس کے دونوں اطراف فولادی پھاٹک یا بیریئر لگا دیے جاتے ہیں۔ گاڑی کی آمد پر دونوں اطراف کے پھاٹک بند کرکے اس سڑک سے گزرنے والی گاڑیوں کا راستہ مکمل طور پر بند کر دیا جاتا ہے جسے گاڑی کے گزرنے کے بعد کھول دیا جاتا ہے تاکہ عام ٹریفک وہاں سے گزرتی رہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیاست سے کنارہ کشی نہیں کی، بس اپنے کام سے کام رکھتا ہوں، شیر افضل مروت
ریلوے ملازم کی اہمیت
اب یہ کام نہ تو اتنا سیدھا سادا ہے اور نہ ہی یہ خود سے ہو سکتا ہے۔ لہٰذا وہاں بھی ریلوے کا ایک کل وقتی ملازم ہوتا ہے جو سڑک کی ٹریفک اور ریل گاڑیوں کی آمد و رفت میں باقاعدگی پیدا کرتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسٹیشن سے اتنی دور بیٹھے ہوئے اسے کس طرح علم ہوتا ہے کہ کوئی ریل گاڑی کب وہاں سے گزرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی صارفین کے لیے بڑی خبر، ہر صارف خود بل بنوا سکے گا، اویس لغاری نے صارفین کو بڑی خوشخبری سنادی۔
مسئلہ کا حل
اس مسئلے کا حل یوں نکالا گیا ہے کہ اسے وہاں لیول کراسنگ کے ساتھ ایک چھوٹا سا کیبن بنا دیا جاتا ہے اور اس میں ایک میز کرسی کے علاوہ ٹیلی فون بھی مہیا کیا جاتا ہے جس کا رابطہ براہ راست اسٹیشن ماسٹر کے دفتر یا انٹرلاکنگ کیبن سے ہوتا ہے۔ جیسے ہی اسٹیشن والے اسے کسی گاڑی کے اُس طرف آنے کی اطلاع دیتے ہیں یا کیبن میں لگی ہوئی گھنٹی کی بلند آواز کی صورت میں گاڑی کی آمد کی خبر ملتی ہے وہ دوڑ کر باہر نکلتا ہے اور قریب ہی لگی ہوئی ایک چرخی کو گھما کر آہستہ آہستہ پہلے ایک طرف کے پھاٹک کو بند کرتا ہے یا بڑے سے آہنی بیریئر کو نیچے جھکا کر دونوں اطراف کی ٹریفک کو بند کرتا ہے لیکن اس سے پہلے یہ اس ٹریفک کو نکلنے کا موقع دیتا ہے جو ابھی پٹری عبور ہی کر رہی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قتل کا ملزم جدہ سے سیالکوٹ پہنچنے پر گرفتار
ختم ہونے والا عمل
جب اسے یقین ہو جاتا ہے کہ گاڑی کے گزرنے کا راستہ پوری طرح صاف ہے تو وہ پھاٹک کو تالہ لگا کر کنجی نکال لیتا ہے اور پھر سبز جھنڈی لے کر ریلوے لائن کے پہلو میں کھڑا ہو جاتا ہے۔ اور آتی ہوئی گاڑی کو سبز جھنڈی دکھا کر نکلنے کا اشارہ کر دیتا ہے۔ بعد میں وہ دونوں طرف کے پھاٹک کھول کر سڑک پر روانگی کی منتظر ٹریفک کو معمول کے مطابق گزرنے کا اشارہ کرتا ہے۔ رات کے وقت وہ یہی کام سرخ یا سبز شیشوں والی لیمپ سے کرتا ہے۔
نوٹ
یہ کتاب “بک ہوم” نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








