انسان کی سب سے بڑی محافظ اس کی موت ہے، کیا کوئی گن مین کسی کو موت سے بچا سکا ہے؟ انورالسادات سے لیکر اندرا گاندھی تک
مصنف کی معلومات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 159
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں گلوکارہ و اداکارہ عارفہ صدیقی کا گھر بھی سیلاب سے متاثر
گن مین: ضرورت یا کلچر؟
مولا علی ؓ کا فرمان ہے: “انسان کی سب سے بڑی محافظ اس کی موت ہے، جس نے اسے مقررہ وقت سے پہلے مرنے نہیں دینا۔” کیا کوئی گن مین کسی کو موت سے بچا سکا ہے؟ مثال کے طور پر، انورالسادات سے لیکر اندرا گاندھی تک۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیوٹی پر آنے ٹریفک وارڈن کو بھی ڈاکوؤں نے لوٹ لیا
معززین کی ملاقات
روزانہ، علاقے کے معززین اور یونین کونسلز کے چیئرمین ملاقات کے لیے آنے لگے تھے۔ چند دنوں کی ابتدائی نوکری کا ایک سرپرائز ابھی باقی تھا۔ ایک صاحب ملنے آئے، تو ان کے ساتھ تین چار گن مین بھی کمرے میں چلے آئے، ہاتھ میں جدید اسلحہ تھامے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ کا عمران خان کو دوپہر تین بجے پیش کرنے کا حکم
چیئرمین کا تعارف
ان صاحب نے تعارف کرایا: “سید مدد علی شاہ، چیئرمین یونین کونسل کلیوال سیداں۔ آپ کا پتہ چلا، ملنے چلا آیا ہوں۔ کوئی حکم خدمت ہو تو میں حاضر ہوں।” میں نے ڈرتے کہا: “جناب! اگر برا نہ منائیں تو گن مین باہر بھجوا دیں۔” وہ مسکرائے اور اشارے سے انہیں باہر جانے کا کہا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری جنرل شیخ وقاص اکرم کے گھر پر پولیس کا چھاپہ
گن مین کا مقصد
غلام محمد آیا اور کہنے لگا: “سر! ٹھنڈا ونڈا مت منگوایا کریں، بس چیئرمین کو چائے پوچھ لی۔ یوں ان کی تواضع کریں گے تو ساری تنخواہ یہیں خرچ ہو جائے گی۔”
یہ بھی پڑھیں: پروپیگنڈا کام نہ آیا؛ امریکی وزیر خارجہ نے بھارتی ہم منصب کو ٹکا سا جواب دیدیا
دشمنی کی حقیقت
دوسرا سر! دشمنی کی وجہ سے گن مین ساتھ تھے۔ چند اور بھی چیئرمین آئیں گے جن کے ساتھ اس سے بھی زیادہ گن مین ہوں گے۔ “سر! گھبرانا نہیں۔ کچھ یہاں کا کلچر ہے اور کچھ شو شا بھی ہے لیکن کچھ واقعی دشمن دار ہیں۔” مجھے بندوقوں اور دشمنیوں سے نفرت تھی۔ میں سیدھا سادہ سا نوجوان تھا لیکن اب نئی صورت حال میں اور تقاضوں میں خود کو ڈھالنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: نیشنل انڈسٹریل اینڈ انویسٹمنٹ ڈیولپمنٹ یونیورسٹی کے داخلہ قواعد میں تبدیلی، طلبہ کا احتجاج
چیئرمینوں سے ملاقاتیں
اگلے چند روز میں میری سبھی چیئرمینوں سے ملاقات ہو گئی۔ مجھے ان میں سے چوہدری فتح خاں آف چڑیاولہ، چوہدری ریاست خاں ایڈووکیٹ آف ٹھکریاں، چوہدری عنایت آف ڈوئیاں، چوہدری نواز آف صبور، میاں خاں آف کرنانہ، چوہدری اختر علیٰ آف چھوکر کلاں پسند آئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیبلشمنٹ سے مصالحت کی کوششیں، جارحانہ موقف پر پی ٹی آئی کی خارجہ امورکمیٹی تحلیل
یادیں اور رشتے
ان کے علاوہ سید نور الحسن شاہ (ممبر ضلع کونسل، یہ مدد شاہ کے تایا زاد تھے) اور چوہدری محمد اشرف ایڈووکیٹ آف ٹھکریاں (یہ بھی ممبر ضلع کونسل تھے اور خاندانی آدمی تھے۔ مجھ سے بہت پیار کرتے تھے۔) ان میں سے چوہدری فتح خاں، چوہدری اشرف ایڈووکیٹ، سید نورالحسن شاہ اور چوہدری ریاست ایڈووکیٹ وفات پا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تکنیکی اور آپریشنل وجوہات کے باعث اندرون و بیرون ملک 8پروازیں منسوخ
الوداعی کلمات
چوہدری عنایت بڑی دشمنی والے تھے اور قتل ہوئے۔ ان مرحومین کی زندگی میں میرے ان سے شاندار تعلقات تھے۔ اللہ انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے، آمین۔ مدد شاہ اور چوہدری اختر سے آج بھی میرا رابطہ ہے۔
نوٹ
یہ کتاب “بک ہوم” نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








