بلوائی کسی بھی وقت حملہ آور ہو سکتے تھے، دادا جان نے مسلمانوں کو فوری پاکستان جانے کیلئے آمادہ کیا،گاؤں کے لوگ سکھوں کے احسان مند تھے
مصنف کی معلومات
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 28
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی کامیابی اور بقا کے لیے 27ویں ترمیم کی ضرورت پڑ گئی ہے، 28ویں ترمیم کی بھی ضرورت پڑی تو وہ بھی آجائے گی، فیصل واوڈا
خطرے کا احساس
آئندہ بھی بلوائی کسی بھی وقت ہمارے گاؤں پر حملہ آور ہو سکتے تھے۔ اس خطرے کے پیش نظر دادا جان نے اپنے گاؤں کے مسلمانوں کو فوری طور پر پاکستان جانے کے لیے آمادہ کیا۔ ان دنوں والدہ میکے گئی ہوئی تھیں۔ ہمارے گاؤں دھین پور سے ہمارا قافلہ انبالہ جانے کے لیے روانہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: عیدالاضحیٰ پر کس ملک میں کتنی تعطیلات ہوں گی؟
سکھوں کی مدد
گاؤں سے رجولی کیمپ تک ہمارے گاؤں کے سِکھ ہماری حفاظت کے لیے ہمارے ساتھ تھے۔ دوستی نبھانے پر ہمارے دادا اور گاؤں کے لوگ سکھوں کے بے حد احسان مند تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کس قوم کو اے مودی ! تو آیا ہے دھمکانے؟
رجولی کیمپ میں قیام
رجولی کیمپ میں ہم قریباً 20 روز قیام پذیر رہے۔ اس دوران ایک چشم دید واقعہ، جو میں زندگی بھر نہیں بھول سکتا، وہ یہ ہے کہ اپنے گاؤں کے نمبردار کو میں نے بے حد غمزدہ دیکھا۔ کئی روز تک اْن کے آنسو تھمنے کو نہیں آ رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اے این ایف کا تعلیمی اداروں کے اطراف اور ملک کے مختلف شہروں میں کریک ڈاؤن، خاتون سمیت 4 ملزم گرفتار، 15 کلو منشیات برآمد
نمبردار کا درد
چنانچہ میں نے پوچھ لیا، نمبردار صاحب آپ کیوں روتے نظر آتے ہیں؟ نمبردار صاحب کا کہنا تھا، "بیٹا آپ بہت چھوٹے ہیں، آپ نہیں جانتے کہ اپنے گھروں، زمینوں اور باغات کو چھوڑ کر بے گھر ہو جانا کتنی تکلیف دہ بات ہے۔" ہم ہجرتِ نبویؐ کے مطابق اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام، اور قائد اعظمؒ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے پاکستان جا رہے ہیں۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور میں چاند رات کو بینک ڈکیتی، ڈاکو 400 تولہ سونا اور 13 لاکھ ستر ہزار روپے نقدی لے اڑے
مہاجرین کی تعداد
میں نے بڑے ہو کر نمبردار صاحب کی باتوں پر غور کیا۔ یقیناً یہ ہجرت مہاجرین کی تعداد کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی ہجرت تھی، جس میں تقریباً 90 لاکھ مسلمان بھارت سے پاکستان آئے اور قریباً 15 لاکھ مسلمان مرد، عورتیں اور بچے شہید ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: جوڈیشل کمیشن اجلاس: سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں 6 ماہ کی توسیع، رولز کی منظوری
ماموں کی آمد
دوسری طرف ہمارے بڑے ماموں تاج محمد، جو کہ انگریز فوج میں بطور حوالدار ملازم تھے اور دوسری جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعد جاپان میں قید تھے، اچانک ماہِ اکتوبر میں اپنے گاؤں پنجلاسہ پہنچے۔ ماموں فوجی ٹرک میں آئے تھے اور ان کے ساتھ چند مسلمان فوجی بھی تھے۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن ’’بنیان المرصوص‘‘ کے دوران عطا اللہ تارڑ کے مؤثر اورمدلل انداز کی گونج بھارت کے ایوانوں تک پہنچ گئی
امن و امان کی صورتحال
پنجلاسہ میں امن و امان کی حالت بہت مخدوش تھی۔ مقامی غیر مسلم دلت لوگ مسلمانوں کے گھروں کو آگ لگا رہے تھے۔ اس صورتحال میں ماموں نے اپنے خاندان والوں کو ٹرک میں بٹھایا اور انبالہ کے لئے روانہ ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: نجی ہسپتال میں ڈی ہائیڈریشن کے مریضوں کے اپینڈکس کے آپریشن کردیئے گئے، تہلکہ خیز دعویٰ
نئے آنے والے خوشخبری
ابھی راستے میں ماموں رجولی گاؤں ہمارے کیمپ تک نہ پہنچے تھے کہ میری والدہ نے میرے چھوٹے بھائی شبیر احمد خاں کو جنم دیا۔ دادا کے گاؤں کا قافلہ دھین پور سے رجولی کیمپ میں پہلے سے مقیم تھا۔ رجولی کیمپ پہنچ کر میرے ماموں اپنی بہن (میری والدہ)، والد صاحب، تاجے ملازم اور ہم بچوں کو بھی فوجی ٹرک میں اپنے ساتھ بٹھا کر انبالہ لے گئے۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








