بھارتی حلقوں میں ماہرہ اور فواد کے بیانات پر غصے کی لہر دوڑگئی، پابندی کا مطالبہ
پاک بھارت کشیدگی اور پاکستانی فنکار
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاک بھارت کشیدگی کے پس منظر میں پاکستانی فنکاروں کے خلاف ایک بار پھر آواز بلند ہونے لگی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کا سمندری ریف پر قبضے کا دعویٰ، فلپائن اور امریکہ نے میزائل فائر کردیے۔
AISWA کا سخت موقف
نجی ٹی وی آج نیوز کے مطابق آل انڈین سائن ورکرز ایسوسی ایشن (AISWA) نے معروف پاکستانی اداکاروں ماہرہ خان اور فواد خان کے مبینہ ’بھارت مخالف‘ بیانات پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے دونوں فنکاروں پر تنقید کی بوچھاڑ کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لیہ میں ’’دھی رانی پروگرام‘‘ کے تحت 370 اجتماعی شادیاں، پنجاب کی بیٹیوں کیلئے گھر بنائیں گے بھی اور بسائیں گے بھی :صوبائی وزیر سہیل شوکت بٹ
بیانات پر الزامات
ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ تازہ پریس ریلیز میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ماہرہ خان نے بھارتی فوجی کارروائی کو ”بزدلانہ اقدام“ قرار دیا جبکہ فواد خان پر الزام ہے کہ انہوں نے دہشت گردی کی مذمت کرنے کے بجائے متنازع بیانیہ اختیار کیا جو مبینہ طور پر بھارت کے خلاف نفرت کو ہوا دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک دن آئے گا پی ٹی آئی اڑ جائے گی، ملک میں الیکشن 5 سال بعد ہونگے: وفاقی وزیر امیر مقام
ایسوسی ایشن کا رد عمل
ایسوسی ایشن کا کہنا تھا”یہ بیانات نہ صرف قوم کی تذلیل ہیں بلکہ ان بہادر سپاہیوں کی توہین بھی، جنہوں نے ملک کی سلامتی کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا“۔ مزید برآں ایسوسی ایشن نے اپنے دیرینہ مو¿قف کو دہراتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بھارت میں پاکستانی فنکاروں، پروڈیوسرز اور سرمایہ کاروں پر مکمل اور غیر مشروط پابندی عائد کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: سوڈان پاکستان سے 1.5 ارب ڈالر کا اسلحہ اور جنگی طیارے لینے کے دفاعی معاہدے کے آخری مرحلے میں داخل ہو گیا، رائٹرز کی رپورٹ میں انکشاف
بھارت کی کارروائیاں
یہ سخت موقف اس وقت سامنے آیا ہے جب 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد پاک بھارت تعلقات مزید کشیدہ ہو چکے ہیں۔ اس واقعے کے جواب میں بھارت نے 7 مئی کو ”آپریشن سندور“ کے تحت پاکستان کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب کا سینٹ الیکشن میں 243 ووٹ حاصل کرنے پر اظہار تشکر۔ حافظ عبد الکریم کو مبارکباد، اتحادیوں کا شکریہ
پاکستانی ٹیلنٹ کے ساتھ تعاون
ایسوسی ایشن نے بھارتی میوزک لیبلز اور ان فنکاروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو تاحال پاکستانی ٹیلنٹ کے ساتھ عالمی سطح پر اشتراک کر رہے ہیں۔ خاص طور پر فلم ”عبیر گلال“ کو نشانہ بنایا گیا، جس میں فواد خان مرکزی کردار میں ہیں۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اس فلم کی ریلیز 2019 کے پلوامہ حملے میں شہید بھارتی اہلکاروں کی قربانیوں کی نفی ہے۔
قومی سلامتی کی اہمیت
ایسوسی ایشن نے بھارتی فلم انڈسٹری کے تمام متعلقہ افراد سے اپیل کی ہے کہ فنکارانہ تعاون سے پہلے قومی سلامتی اور حب الوطنی کو اولین ترجیح دی جائے۔ واضح رہے کہ یہ پہلی بار نہیں کہ ایسے مطالبات سامنے آئے ہوں۔ اس سے قبل بھی 2016 اور 2019 میں سرحدی کشیدگی کے دوران پاکستانی فنکاروں پر اسی نوعیت کی پابندیوں کی درخواستیں کی جا چکی ہیں۔








