یہ دل توڑنے والا منظر اور بڑا سرپرائز تھا، جس احساس برتری کے ساتھ سرکاری ملازمت میں داخل ہوا تھا اس کا پارہ دوسری بار صفر سے نیچے گر گیا تھا۔
تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 161
یہ بھی پڑھیں: کاروباری افراد کے لیے خوشخبری، پنجاب حکومت نے ”ای بز (Ebiz)“ پورٹل کا آغاز کر دیا
تعیناتی کا آغاز
میں نے اپنی تعیناتی کے ہفتہ دس دن بعد ایک کواٹرر سویپر اقبال مسیح کو الاٹ کیا، جہاں وہ اپنی بیوی بچوں کے ساتھ عرصہ تک قیام پذیر رہا۔ اقبال شکل و صورت سے انگریز ہی لگتا تھا جبکہ اس کی بیوی واجبی شکل کی خاتون تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ تبدیل کردی
سرکاری گھر کی حالت
میں غلام محمد رفیق کے ساتھ اپنے سرکاری گھر کا جائزہ لینے آیا۔ ویران ماحول 2 بیڈ رومز، وسیع ٹی وی لاؤنج، ڈرائینگ ڈائننگ، بڑے باورچی خانے پر مشتمل اس گھر کے فرش اکھڑے، دیواروں کے پلستر ادھڑے، باتھ روم کے نل ٹپکتے اور بجلی کے تار دیواروں کے ساتھ لٹکے تھے۔ پچھلے اور اگلے لان میں گھاس گھٹنوں گھٹنوں تک بڑھ چکی تھی۔ سامنے والے باغیچہ کی باڑ بے ہنگم انداز میں پھیلی تھی۔ سب سے تکلیف دہ بات دروازوں کو گھی کے ڈبوں سے جوڑا گیا تھا۔ لگتا تھا کہ یہ عرصہ دراز سے خالی تھا۔
یہ بھی پڑھیں: قائمہ کمیٹی میں جھگڑا، کے الیکٹرک کے سی ای او کو اجلاس سے نکال دیا گیا
خالی گھر کا انکشاف
نوجوان سرکاری افسر کے لئے یہ دل توڑنے والا منظر اور بڑا سرپرائز تھا۔ جس احساس برتری کے ساتھ وہ سرکاری ملازمت میں داخل ہوا تھا، وہ دو تین دنوں میں دوسری بار صفر سے بھی نیچے گر گیا تھا۔ میں نے غلام محمد سے پوچھا؛ “کتنے عرصہ سے یہ خالی ہے؟” اس کے جواب نے مجھے حیران کر دیا؛ “سر! ملک عظیم یہاں رہتا رہا ہے۔” میں نے سر پکڑ لیا، کہ ایسے گھر میں بھی بھلا کوئی رہ سکتا ہے کیا؟ میں اسے مرمت کروانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: چین نے بھی امریکی مصنوعات پر 125 فیصد محصولات عائد کردیے
انکل کمال الدین کی کہانی
میں سمجھتا ہوں انکل کمال الدین کے ذکر کے بغیر یہ کہانی ادھوری ہے۔ میری لالہ موسیٰ پہلی پوسٹنگ انہی کی وجہ سے ہوئی۔ میرے سسر شیخ محمد انور کے دوست انکل کمال الدین نام کی طرح کمال انسان تھے۔ وضعدار، ایماندار، نیک نام سرکاری افسر۔ نیچے سے اپنی محنت سے ایڈیشنل سیکرٹری (ایس اینڈ جی اے ڈی) تک ترقی کی۔ اپنی قابلیت اور ایمانداری کی بدولت اپنے افسروں کی نگاہ میں انتہائی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: لائٹ نہیں آتی تھی تو ٹارچ کی روشنی میں پڑھتا تھا، 28 برس بعد پہلی مرتبہ گورنمنٹ سکول کے بچے نے میٹرک میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی
تربیت گاہ میں واقعہ
25 مئی کو سرکاری چٹھی ملی کہ چھ ہفتے کے لئے ہم سولہ افسران کے بیج کو لالہ موسیٰ اکیڈمی تربیت کے لئے پہنچنا تھا۔ میرے لئے یہ آسان تھا کہ اکیڈمی چند سو میٹر کی دوری پر تھی۔ اس بیج کے افسران کو جان پہچان کے لئے پہلا موقع تھا۔ 6 ہفتے کی تربیت میں ایک ہفتے کی field attachment بھی شامل تھی۔
یہ بھی پڑھیں: گیس لیکج دھماکے سے گھریلو ملازمہ جاں بحق
مرمت کا آغاز
میں نے سوچا کہ یہ ایک بہترین موقع تھا کہ سرکاری رہائش کو مرمت کروا لیا جائے۔ دفتر کے قریب 2 بڑی فیکٹریاں تھیں۔ ایک پاک پور سرامکس اور دوسری پلائی وڈ۔ ایک روز ریس بھائی مجھے انہیں ملانے کے لئے ساتھ لے گئے۔ تعارف ہوا، انہوں نے چند تعریفی کلمات کہے اور میری رہائش کے لیے دروازے گفٹ کرنے کا وعدہ بھی کر لیا۔
فرش، کھڑکیوں کے شیشوں اور باقی مرمت کے لئے غلام محمد نے بجٹ سے گنجائش نکال لی، یوں گھر کی مرمت شروع ہو گئی۔ ادھر سبھی بیج میٹ تربیت کے لئے اکیڈمی اکٹھے ہونے لگے تھے۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








