ایسی سوچ بھی نہیں آنی چاہیے کہ پاکستان پر حملہ ہوگا اور جوابی ردعمل نہیں ہوگا: پاکستانی سفیر
سفیر پاکستان کی گفتگو
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن )امریکا میں سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ کا کہنا ہے کہ ایسی سوچ بھی دماغ میں نہیں آنی چاہیے تھی کہ پاکستان پر حملہ ہوگا اور جوابی ردعمل نہیں ہوگا، اب تک ہم نے جو کارروائی کی ہے وہ اپنے حق دفاع میں کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پاکستان بٹ کوائن خریدے گا؟ کرپٹو کونسل کے چیئرمین بلال بن ثاقب کا بڑا اعلان
سی این این کے انٹرویو میں ردعمل
سی این این کے معروف اینکر جیک ٹیپر کو انٹرویو کے دوران سفیر پاکستان نے بھارتی الزامات اور جارحیت کے جواب میں پاکستانی نکتہ نظر اور قوم کے جذبات کی بھرپور اور دوٹوک نمائندگی کی۔ رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد بغیر کسی ثبوت جارحیت کا مظاہرہ قابلِ مذمت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یحییٰ آفریدی اپنی باری پر چیف جسٹس بنیں، ابھی عہدہ قبول نہ کریں: حامد خان کی اپیل
عالمی برادری کا سوال
پاکستانی سفیر نے عالمی برادری سے سوال کیا کہ کیا دنیا ایک ایسی مثال قائم کرنا چاہتی ہے کہ بغیر کسی ثبوت ایک خودمختار ملک کے خلاف کھلی جارحیت کا مظاہرہ کیا جائے۔ علاقائی اور عالمی امن کے تناظر میں ایسی مثالیں قائم کرنا خطرناک ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل نے آئی فون صارفین کے لیے وارننگ جاری کردی
بھارتی جارحیت کا جواب
انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین راتوں سے بھارت کی جانب سے اشتعال انگیزی اور جارحیت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، پاکستان نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے حق دفاع کا استعمال کیا۔ ثبوت کے بغیر الزام تراشی انتہائی مضحکہ خیز ہے، پاکستان نے پہلگام واقعے کی غیر جانب دارانہ اور شفاف انکوائری کا مطالبہ بھی کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور چین نے مل کر چاول کا نیا ہائبرڈ بیج تیار کرلیا
پاکستان کا موقف
رضوان سعید شیخ نے کہا کہ ہم کشیدگی نہیں چاہتے تاہم اشتعال انگیزی اور جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا جبکہ پاکستان جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ہمارے معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسد عمر کو گن پوائنٹ پر سیاست چھوڑنے کے لیے مجبور کیا گیا: محمد زبیر
ہندوتوا فلسفہ پر تنقید
انہوں نے کہا کہ ہندوتوا فلاسفی کے پیروکاروں اور اس پر عمل پیرا حکومت کی جانب سے لیکچر مضحکہ خیز اور ناقابلِ قبول ہیں۔ بھارت کی جانب سے خطے میں جو کچھ کیا جاتا رہا ہے اس سے تسلط پسندانہ رویے کی عکاسی ہوتی ہے۔
خطے کے مسائل
پاکستانی سفیر نے سوال کیا کہ صرف بھارت ہی کیوں خطے کے دیگر ممالک کے ضمن میں مسائل سے دوچار ہے۔








