ایسی سوچ بھی نہیں آنی چاہیے کہ پاکستان پر حملہ ہوگا اور جوابی ردعمل نہیں ہوگا: پاکستانی سفیر
سفیر پاکستان کی گفتگو
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن )امریکا میں سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ کا کہنا ہے کہ ایسی سوچ بھی دماغ میں نہیں آنی چاہیے تھی کہ پاکستان پر حملہ ہوگا اور جوابی ردعمل نہیں ہوگا، اب تک ہم نے جو کارروائی کی ہے وہ اپنے حق دفاع میں کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آرمڈ فورسز میں نہ ہونے والا شخص فورسز کے ڈسپلن کے نیچے کیسے آتا ہے؟ جسٹس جمال مندو خیل کا استفسار
سی این این کے انٹرویو میں ردعمل
سی این این کے معروف اینکر جیک ٹیپر کو انٹرویو کے دوران سفیر پاکستان نے بھارتی الزامات اور جارحیت کے جواب میں پاکستانی نکتہ نظر اور قوم کے جذبات کی بھرپور اور دوٹوک نمائندگی کی۔ رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد بغیر کسی ثبوت جارحیت کا مظاہرہ قابلِ مذمت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو ملنے والے نئے بیرونی قرضوں میں 18فیصد سے زیادہ کا اضافہ
عالمی برادری کا سوال
پاکستانی سفیر نے عالمی برادری سے سوال کیا کہ کیا دنیا ایک ایسی مثال قائم کرنا چاہتی ہے کہ بغیر کسی ثبوت ایک خودمختار ملک کے خلاف کھلی جارحیت کا مظاہرہ کیا جائے۔ علاقائی اور عالمی امن کے تناظر میں ایسی مثالیں قائم کرنا خطرناک ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے بھارت کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کر دیا
بھارتی جارحیت کا جواب
انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین راتوں سے بھارت کی جانب سے اشتعال انگیزی اور جارحیت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، پاکستان نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے حق دفاع کا استعمال کیا۔ ثبوت کے بغیر الزام تراشی انتہائی مضحکہ خیز ہے، پاکستان نے پہلگام واقعے کی غیر جانب دارانہ اور شفاف انکوائری کا مطالبہ بھی کیا۔
یہ بھی پڑھیں: If I Were President, Hamas or Hezbollah Wouldn’t Attack Israel: Trump
پاکستان کا موقف
رضوان سعید شیخ نے کہا کہ ہم کشیدگی نہیں چاہتے تاہم اشتعال انگیزی اور جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا جبکہ پاکستان جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ہمارے معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی جی خیبر پختونخوا نارتھ نے وادیِ تیراہ میں خوارج کی فائرنگ سے ہونیوالے زخمیوں کی عیادت کی
ہندوتوا فلسفہ پر تنقید
انہوں نے کہا کہ ہندوتوا فلاسفی کے پیروکاروں اور اس پر عمل پیرا حکومت کی جانب سے لیکچر مضحکہ خیز اور ناقابلِ قبول ہیں۔ بھارت کی جانب سے خطے میں جو کچھ کیا جاتا رہا ہے اس سے تسلط پسندانہ رویے کی عکاسی ہوتی ہے۔
خطے کے مسائل
پاکستانی سفیر نے سوال کیا کہ صرف بھارت ہی کیوں خطے کے دیگر ممالک کے ضمن میں مسائل سے دوچار ہے۔








