ایسی سوچ بھی نہیں آنی چاہیے کہ پاکستان پر حملہ ہوگا اور جوابی ردعمل نہیں ہوگا: پاکستانی سفیر
سفیر پاکستان کی گفتگو
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن )امریکا میں سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ کا کہنا ہے کہ ایسی سوچ بھی دماغ میں نہیں آنی چاہیے تھی کہ پاکستان پر حملہ ہوگا اور جوابی ردعمل نہیں ہوگا، اب تک ہم نے جو کارروائی کی ہے وہ اپنے حق دفاع میں کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم سے مولانا فضل الرحمان کی ملاقات، تحفظات سے آگاہ کیا۔
سی این این کے انٹرویو میں ردعمل
سی این این کے معروف اینکر جیک ٹیپر کو انٹرویو کے دوران سفیر پاکستان نے بھارتی الزامات اور جارحیت کے جواب میں پاکستانی نکتہ نظر اور قوم کے جذبات کی بھرپور اور دوٹوک نمائندگی کی۔ رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد بغیر کسی ثبوت جارحیت کا مظاہرہ قابلِ مذمت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی کے لیے جدید آلات کی خریداری کا فیصلہ، 77 سائنسدانوں کی بھرتی کا عمل جاری
عالمی برادری کا سوال
پاکستانی سفیر نے عالمی برادری سے سوال کیا کہ کیا دنیا ایک ایسی مثال قائم کرنا چاہتی ہے کہ بغیر کسی ثبوت ایک خودمختار ملک کے خلاف کھلی جارحیت کا مظاہرہ کیا جائے۔ علاقائی اور عالمی امن کے تناظر میں ایسی مثالیں قائم کرنا خطرناک ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: نام نہاد پرامن احتجاج کی آڑ میں پولیس، رینجرز پر حملے قابل مذمت ہیں، وزیراعظم کا رینجرز اہلکاروں کی شہادت پر اظہار افسوس
بھارتی جارحیت کا جواب
انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین راتوں سے بھارت کی جانب سے اشتعال انگیزی اور جارحیت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، پاکستان نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے حق دفاع کا استعمال کیا۔ ثبوت کے بغیر الزام تراشی انتہائی مضحکہ خیز ہے، پاکستان نے پہلگام واقعے کی غیر جانب دارانہ اور شفاف انکوائری کا مطالبہ بھی کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ: جیل سے رہائی پاتے ہی قیدی نے ماں، بیوی اور بیٹی کو قتل کردیا
پاکستان کا موقف
رضوان سعید شیخ نے کہا کہ ہم کشیدگی نہیں چاہتے تاہم اشتعال انگیزی اور جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا جبکہ پاکستان جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ہمارے معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جونیئر جناح ٹرسٹ کا برما ٹاؤن میں “زیرو آؤٹ آف اسکول چلڈرن” ماڈل پراجیکٹ کا آغاز، پہلے مرحلے میں 360 بچوں کی انرولمنٹ
ہندوتوا فلسفہ پر تنقید
انہوں نے کہا کہ ہندوتوا فلاسفی کے پیروکاروں اور اس پر عمل پیرا حکومت کی جانب سے لیکچر مضحکہ خیز اور ناقابلِ قبول ہیں۔ بھارت کی جانب سے خطے میں جو کچھ کیا جاتا رہا ہے اس سے تسلط پسندانہ رویے کی عکاسی ہوتی ہے۔
خطے کے مسائل
پاکستانی سفیر نے سوال کیا کہ صرف بھارت ہی کیوں خطے کے دیگر ممالک کے ضمن میں مسائل سے دوچار ہے۔








