بلوچستان اسمبلی کے حلقہ 21 سے متعلق انتخابی عذر داری پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری
سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے بلوچستان اسمبلی کے حلقہ 21 سے متعلق انتخابی عذرداری پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا۔ عدالت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے صالح بھوتانی کی درخواست پر جواب طلب کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سے کشیدگی کے بعد بھارت کا ڈرونز کے لیے 23 کروڑ ڈالر کا نیا ترغیبی پروگرام
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے مطابق جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے بلوچستان اسمبلی کے حلقہ 21 سے علی حسن زہری کی کامیابی کو چیلنج کرنے والی صالح بھوتانی کی درخواست پر سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: اگر مدعی سچ بولے تو فوجداری مقدمات میں کوئی ملزم بھی بری نہ ہو؛ سپریم کورٹ نے ساس سسر قتل کے ملزم کی سزا کے خلاف اپیل خارج کردی
الیکشن کمیشن کا مؤقف
وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ 21 سے متعلق کیس الیکشن ٹربیونل میں زیر سماعت ہے۔ جس پر جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ یہ ایک الگ معاملہ ہے، یہاں براہ راست الیکشن کمیشن سے معاملہ ہے۔ الیکشن کمیشن پہلے جواب جمع کرائے، پھر ہم اس کو دیکھ لیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سحرکامران کا تاج حیدر کے انتقال پر اظہار افسوس
وکلا کا مؤقف
وکیل خواجہ حارث نے مؤقف اختیار کیا کہ آپ کے ہی بینچ نے الیکشن کمیشن کو آئین و قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ جبکہ صالح بھوتانی کے وکیل کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے عدالتی حکم کے بر خلاف فیصلہ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی میں جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل بنانے کے فیصلے کی تائید میں قرارداد جمع
آگے کا لائحہ عمل
جسٹس شاہد وحید کا کہنا تھا کہ جواب آجائے، الیکشن کمیشن اپنا موقف دے پھر دیکھ لیں گے۔ سپریم کورٹ نے صالح بھوتانی کی درخواست پر الیکشن کمیشن سے جواب طلبی کا نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔
نتیجہ
بلوچستان اسمبلی کے حلقہ 21 سے صالح بھوتانی کامیاب ہوئے تاہم دوبارہ گنتی میں الیکشن کمیشن نے علی حسن زہری کو کامیاب قرار دیا تھا۔








