ایران نے حادثاتی طور پر اپنے میزائل کے حساس ڈیٹا کو لیک کر دیا
ایران کا نیا بیلسٹک میزائل سسٹم
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) 4 مئی 2025 کو ایران نے اعلان کیا کہ اس نے ایک نیا بیلسٹک میزائل سسٹم کامیابی سے آزمایا ہے۔ اس اعلان کے فوراً بعد ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر اس تجربے کی ویڈیوز نشر کی گئیں جنہیں پروپیگنڈا کے طور پر استعمال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: شاہ رخ خان کی بلاک بسٹر فلم ’’بازیگر‘‘ کا سیکوئل بنانے کی تیاریاں
ایک اہم غلطی کا انکشاف
تاہم یہاں ایران سے ایک معمولی مگر اہم غلطی ہو گئی۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں میزائل کے ڈریگ کوایفیشنٹ (Drag Coefficient) یعنی فضائی مزاحمت سے متعلق حساس ڈیٹا واضح طور پر نظر آ گیا جو ایران کے مخالفین کو میزائل کو ناکارہ بنانے کے لیے اہم معلومات فراہم کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پولینڈ کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے
میزائل "قاسم بصیر"
فرانس 24 کے مطابق یہ نیا میزائل "قاسم بصیر" کے نام سے متعارف کروایا گیا ہے، جو ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے وسیع ذخیرے میں تازہ ترین اضافہ ہے۔ اس کی رینج 1300 کلومیٹر ہے، باڈی ہلکے وزن والے کاربن فائبر سے تیار کی گئی ہے، اور اس میں 500 کلوگرام وزنی وار ہیڈ کے ساتھ ایک کیمرہ بھی نصب ہے جو درست نشانے میں مدد دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اب کس کو چور کہوں، اور کس کو کہوں کچھ سادہ۔۔۔
ایرانی وزیر دفاع کا دعویٰ
ایرانی وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل عزیز ناصرزادہ، جو ان پروپیگنڈا ویڈیوز میں نمایاں طور پر نظر آئے، نے دعویٰ کیا کہ یہ میزائل ان تجربات کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے جو اپریل اور اکتوبر 2024 میں اسرائیل پر ایرانی میزائل حملوں کے دوران حاصل ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ "نہ تو تھاڈ (THAAD) اور نہ ہی پیٹریاٹ (Patriot) جیسے دفاعی نظام قاسم بصیر میزائل کو روک سکتے ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: ترکش چکن اور بریانی کھا کر ہم انگلیاں ہی چاٹتے رہ گئے، نیل گائے اور ہرن کا گوشت اس قدر لذیز ہوتا تھا کہ پیٹ گنجائش سے زیادہ بھر جاتا تھا۔
حساس معلومات کا افشا
سرکاری ٹی وی پر نشر کی گئی ویڈیو میں میزائل کے کیمرے سے حاصل شدہ تصویر میں بائیں کونے میں ایک نمبر کو سیاہ پٹی کے ذریعے چھپایا گیا تھا۔ مگر سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں وہ سیاہ پٹی موجود نہیں تھی، جس کے نتیجے میں "D" کا ایک نشان اور اس کے ساتھ 3 سے 1.2 تک کم ہوتی ہوئی عددی ترتیب سامنے آ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ضلع کیچ میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 4 دہشتگرد جہنم واصل، ہلاک ہونیوالوں میں انتہائی مطلوب گینگ ثنا عرف بارو بھی شامل
عسکری ماہرین کی وضاحت
واشنگٹن انسٹیٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی سے وابستہ عسکری ماہر فرزین ندیمی نے وضاحت کی کہ ڈریگ کا مطلب ہوتا ہے وہ قوت جو کسی شے کی حرکت کے مخالف ہوتی ہے جب وہ کسی سیال (مثلاً ہوا) میں سفر کر رہی ہو۔ ان کے مطابق 3 سے 1.4 تک گرتا ہوا عدد اس بات کا اشارہ ہے کہ میزائل کی رفتار کم ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: علیمہ خان کے بیان پر وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا رد عمل آ گیا
ڈیٹا کا اثر
ندیمی کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ ڈیٹا افشا ہونا تباہ کن نہیں، لیکن اس سے ایران کے مخالفین کو میزائل کی ایروڈائنامکس (aerodynamics) کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملی ہے، جو ان کے دفاعی نظاموں کو زیادہ مؤثر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
نتیجہ
مجموعی طور پر فرزین ندیمی نے اس میزائل کو ایران کے میزائل پروگرام میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ ان کے مطابق پچھلے حملوں کے تجربات سے یہ بات واضح ہوئی کہ ایران کے پرانے میزائل 2000 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر درستگی میں ناکام رہے۔









