جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک سرد جنگ کی ذہنیت ترک کردیں، چین اور روس کا مشترکہ بیان
چین اور روس کا مشترکہ بیان
ماسکو (ڈیلی پاکستان آن لائن) چین اور روس نے مشترکہ بیان میں جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ سرد جنگ کی ذہنیت اور اپنے فائدے کے لئے دوسرے کے نقصان کا کھیل ترک کردیں۔
یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کا بھائی وزیراعظم، اس کی بیٹی وزیراعلیٰ، ہمارے پاس صرف “نک دا کوکا” ہی رہ گیا”، کیپٹن (ر) محمد صفدر کی پرانی ویڈیو پھر وائرل
بین الاقوامی سلامتی کا بحران
فریقین نے عالمی تزویراتی مسائل سے نمٹنے کے لئے بڑے ممالک کے درمیان تعمیری تعلقات برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک بین الاقوامی سلامتی اور عالمی تزویراتی استحکام کے لیے خصوصی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔ انہیں ایسے اقدامات ترک کر دینے چاہئیں جن سے تزویراتی خطرات پیدا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: انڈونیشیا نے چین سے جدید J-10 سی لڑاکا طیارے خریدنے کا فیصلہ کر لیا
پرتشویش کی وجوہات
بیان میں کہا گیا ہے کہ جوہری ہتھیار رکھنے والے تمام ممالک مذکورہ بالا موقف پر عمل نہیں کرتے، جس کی وجہ سے جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہاں تک کہ براہ راست فوجی تنازعات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کو سیاحتی ہب بنارہے ہیں ، انویسٹرز کو ویلکم کریں گے: وزیر اعلیٰ مریم نواز کی سپین کی سینیٹ کے وفد سے ملاقات میں گفتگو
حساس فوجی مشقیں
جوہری تنازعات کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ بعض جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کی جانب سے دوسرے جوہری ممالک کے آس پاس حساس علاقوں میں مستقل فوجی اڈے قائم کرنا یا انہیں وسعت دینا، یہ سب اقدامات آج کے سب سے فوری اور سنگین تزویراتی خطرات میں شمار ہوتے ہیں جو کہ ازالہ کئے جانے ضروری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور، بسنت فیسٹیول، افتتاحی اور اختتامی تقریب پر 30 کروڑ روپے کے اخراجات کا تخمینہ
امریکی "گولڈن ڈوم" منصوبہ
امریکہ کے حال ہی میں اعلان کردہ "گولڈن ڈوم" منصوبے کا مقصد ایک عالمی کثیر سطحی اور کثیر جہتی میزائل دفاعی نظام تیار کرنا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ تزویراتی استحکام کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی مینز پلئیر آف دی منتھ کیلئے نامزدگیوں کا اعلان کردیا گیا
خلائی تنازعات کی مخالفت
دونوں ممالک کسی بھی ملک کی جانب سے خلا کو مسلح تصادم کے لئے استعمال کرنے کی کوششوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے خودمختار ریاستوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور دوسرے ممالک کے مسلح تنازعات میں مداخلت کے لیے تجارتی خلائی نظام کے استعمال کی مذمت کی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا نیا جنگی ترانہ ”تیار ہیں ہم، اللہ اکبر“ ریلیز
فوجی تصادم کی روک تھام
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کے درمیان کسی بھی فوجی تصادم سے سختی سے گریز کیا جانا چاہیے اور موجودہ اختلافات کا سیاسی اور سفارتی حل تلاش کیا جانا چاہیے۔
سہ فریقی سکیورٹی شراکت داری
بیان میں چین اور روس نے نشاندہی کی کہ امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا ایک سہ فریقی سکیورٹی شراکت داری کے ذریعے فوجی مراکز قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو علاقائی تزویراتی استحکام کو نقصان پہنچاتا ہے اور خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ کو ہوا دیتا ہے۔








