جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک سرد جنگ کی ذہنیت ترک کردیں، چین اور روس کا مشترکہ بیان
چین اور روس کا مشترکہ بیان
ماسکو (ڈیلی پاکستان آن لائن) چین اور روس نے مشترکہ بیان میں جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ سرد جنگ کی ذہنیت اور اپنے فائدے کے لئے دوسرے کے نقصان کا کھیل ترک کردیں۔
یہ بھی پڑھیں: مفتاح اسماعیل نے بجٹ پر ایسا رد عمل جاری کر دیا کہ حکومت کو بھی یقین نہیں آئے گا
بین الاقوامی سلامتی کا بحران
فریقین نے عالمی تزویراتی مسائل سے نمٹنے کے لئے بڑے ممالک کے درمیان تعمیری تعلقات برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک بین الاقوامی سلامتی اور عالمی تزویراتی استحکام کے لیے خصوصی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔ انہیں ایسے اقدامات ترک کر دینے چاہئیں جن سے تزویراتی خطرات پیدا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: معتبر یوٹیوبر کی گھر سے لاش برآمد
پرتشویش کی وجوہات
بیان میں کہا گیا ہے کہ جوہری ہتھیار رکھنے والے تمام ممالک مذکورہ بالا موقف پر عمل نہیں کرتے، جس کی وجہ سے جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہاں تک کہ براہ راست فوجی تنازعات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عراق میں فرانسیسی فوجی اڈے پر حملہ
حساس فوجی مشقیں
جوہری تنازعات کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ بعض جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کی جانب سے دوسرے جوہری ممالک کے آس پاس حساس علاقوں میں مستقل فوجی اڈے قائم کرنا یا انہیں وسعت دینا، یہ سب اقدامات آج کے سب سے فوری اور سنگین تزویراتی خطرات میں شمار ہوتے ہیں جو کہ ازالہ کئے جانے ضروری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا وزیر مملکت عبد الرحمٰن کانجو کی والدہ کے انتقال پر اظہار افسوس
امریکی "گولڈن ڈوم" منصوبہ
امریکہ کے حال ہی میں اعلان کردہ "گولڈن ڈوم" منصوبے کا مقصد ایک عالمی کثیر سطحی اور کثیر جہتی میزائل دفاعی نظام تیار کرنا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ تزویراتی استحکام کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں 28 مارچ کو رات ساڑھے 8 سے ساڑھے 9 بجے تک غیر ضروری لائٹس بند کی جائیں گی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں “ارتھ آور” منانے کا اعلان کردیا۔
خلائی تنازعات کی مخالفت
دونوں ممالک کسی بھی ملک کی جانب سے خلا کو مسلح تصادم کے لئے استعمال کرنے کی کوششوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے خودمختار ریاستوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور دوسرے ممالک کے مسلح تنازعات میں مداخلت کے لیے تجارتی خلائی نظام کے استعمال کی مذمت کی۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ اجلاس؛ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے قرارداد مسترد
فوجی تصادم کی روک تھام
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کے درمیان کسی بھی فوجی تصادم سے سختی سے گریز کیا جانا چاہیے اور موجودہ اختلافات کا سیاسی اور سفارتی حل تلاش کیا جانا چاہیے۔
سہ فریقی سکیورٹی شراکت داری
بیان میں چین اور روس نے نشاندہی کی کہ امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا ایک سہ فریقی سکیورٹی شراکت داری کے ذریعے فوجی مراکز قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو علاقائی تزویراتی استحکام کو نقصان پہنچاتا ہے اور خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ کو ہوا دیتا ہے۔








