ہم بذریعہ بس شیخوپورہ روانہ ہوئے، ننکانہ میں قیام کے دوران خباری ہاکر کی آواز نے چوکنا کر دیا کہ گاندھی جی ایک ہندو کے ہاتھوں قتل ہو گئے ہیں
مصنف
رانا امیر احمد خاں
یہ بھی پڑھیں: پاکستان آسیان کا اہم تجارتی پارٹنر قرار، ملائیشیا کے ساتھ تجارتی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے، وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال
قسط: 30
یہ بھی پڑھیں: سابق کپتان سرفراز احمد کو پی سی بی میں نئی ذمہ داریاں مل گئیں
شیخوپورہ روانگی
اگلی صبح لاری اڈہ سے ہم بذریعہ بس شیخوپورہ روانہ ہوئے۔ شیخوپورہ میں ہمارے نانا کے چھوٹے بھائی راؤ عبدالرزاق خاں جو انسپکٹر کوآپریٹو سوسائٹیز تعینات تھے، ان کا گھر جناح کالونی میں تھا۔ چھوٹے نانا بے اولاد تھے، انہوں نے 2 شادیاں کر رکھی تھیں، ان کے ساتھ صرف چھوٹی بیگم رہتی تھیں۔ بڑی پہلی بیگم ہمارے بعد میرے ماموں صاحبان کے قافلے کے ساتھ پاکستان آ رہی تھیں۔ نانا عبدالرزاق خاں نے خندہ پیشانی سے ہمیں خوش آمدید کہا۔
یہ بھی پڑھیں: جنرل ساحر شمشاد اور روس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف کی ملاقات
ننکانہ میں قیام
میرے والد روزانہ صبح ملازمت کی تلاش میں نکلتے اور شام کو گھر واپس آتے۔ کچھ دنوں بعد والد صاحب کو ننکانہ کوآپریٹو بینک میں ملازمت مل گئی۔ اب ہم ایک ہفتہ بھی شیخوپورہ آئے نہ تھے کہ ہمارے نانا، نانی اور ماموں صاحبان بھی چھوٹے نانا کے گھر شیخوپورہ میں آ گئے۔ نانا کے گھر قریباً 20 روز رہنے کے بعد والد صاحب ہمیں اپنے ساتھ ننکانہ لے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: طلباء کی ’’پاکستان زندہ باد‘‘ ریلی، اب بھارت ہمارا ہر جواب یاد رکھے گا: وزیر تعلیم
خیر خیریت اور گنے کا رس
ہم ننکانہ والے گھر میں ابا جان کے ساتھ ایک ماہ رہے۔ اس دوران تیسرے نمبر والے ماموں راؤ محمد الیاس ہمارے گھر ہماری خیر خیریت پتہ کرنے ننکانہ آئے اور اس بے سرو سامانی کے عالم میں بھی سابقہ روایت قائم رکھتے ہوئے خالی ہاتھ نہ آئے۔ ایک بلٹوئی میں قریباً 5 کلو گنے کا رس لے کر آئے۔ امی نے گنے کا رس ہمیں پینے کو دیا اور اس رس کی کھیر بھی پکائی۔ ہمیں رس کی کھیر کھانے کا بہت لطف آیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی برتری دنیا کی فضائی افواج کیلئے سبق کا کام کرے گی، برطانوی میڈیا کا ایسا دعویٰ کہ آپ کا بھی فخر سے سینہ چوڑا ہوجائے
ایک اہم واقعہ
ننکانہ میں قیام کے دوران ایک روز میرے کانوں میں اخباری ہاکر کی آواز نے مجھے چوکنا کر دیا کہ گاندھی جی ایک ہندو کے ہاتھوں قتل ہوگئے ہیں۔ والد صاحب ننکانہ بینک میں زیادہ مطمئن نہ تھے اور اس دوران انہوں نے پتہ لگا لیا کہ میرے دادا جان اور خاندان کے لوگ اپنے گاؤں والوں کے ساتھ گوجرانوالہ کے قصبہ رسول نگر میں قیام پذیر ہیں۔ چنانچہ والد صاحب ہماری والدہ اور ہم بچوں کو لے کر دادا کے پاس رسول نگر چھوڑ آئے۔ واپس جا کر والد صاحب نے ننکانہ بینک سے استعفیٰ دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے علیمہ خان کو پارٹی معاملات میں مداخلت سے روک دیا، اے آر وائی نیوز کا دعویٰ
قصبہ رسول نگر
رسول نگر ایک بڑا اور قدیم قصبہ تھا، تقریباً تمام مکانات پختہ تھے۔ گلیاں تنگ مگر پختہ تھیں۔ یہاں ایک مڈل سکول تھا جس میں دادا نے مجھے پہلی جماعت میں داخل کروا دیا۔ اس سکول کے ہیڈ ماسٹر ہمیشہ پینٹ کوٹ میں ملبوس ہوتے تھے۔ قبل ازیں میں انڈیا میں بھی اپنے گاؤں کے سکول میں پہلی جماعت میں داخل ہوا تھا لیکن تقسیم ہند کے باعث، وہاں امن و امان کے مخدوش حالات اور گرمیوں کی چھٹیوں کے پیشِ نظر ماہ جون تا ماہ نومبر 1947ء چھ ماہ تعلیم جاری نہ رکھ سکا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مینڈیٹ چور پنجاب کی وزیراعلیٰ جو کا کے اوپر کی لکھتی ہے وہ مجھے مشورے دے رہی ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
پہلی جماعت کا امتحان
دسمبر تا مارچ 4 ماہ رسول نگر سکول میں تعلیم جاری رہی۔ پہلی جماعت میں ہم نے اْردو حروف تہجی، 100 تک گنتی، 10 تک پہاڑے اور پہلی جماعت کا قاعدہ ختم کیا۔ مارچ میں امتحان ہوا اور میں نے پہلی جماعت پاس کر لی۔ پہلی جماعت کا ایک واقعہ مجھے یاد ہے کہ اسسٹنٹ انسپکٹر سکولز ماہِ فروری 1948ء میں ہمارے سکول کے معائنہ کے لئے آئے۔ وہ ہمارے کلاس روم میں بھی آئے اور انہوں نے تختہ سیاہ پر مختلف حروف لکھ کر بچوں کی تعلیمی صلاحیت کا اندازہ لگایا۔ پھر انہوں نے پہاڑے کا ٹیسٹ لیا۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی کو وزیراعظم بنائے جانے کی خبر غلط ہے، اسحاق ڈار
حوصلہ افزائی
انہوں نے بچوں سے پوچھا 9x8 کتنے ہوتے ہیں۔ جماعت میں میرے علاوہ کسی نے ہاتھ نہ اٹھایا۔ انہوں نے دو تین بچوں سے پوچھا مگر درست جواب نہ پا کر مجھ سے پوچھا۔ تو میں نے درست جواب دے دیا کہ 9x8=72 ہوتے ہیں۔ میرے درست جواب پر مجھے بہت شاباش ملی جو میرے لیے بہت حوصلہ افزائی کا باعث بنی۔ اساتذہ اور بچوں کی نظر میں مجھے ذہین اور قابل سمجھا جانے لگا۔
(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








